ہیومن رائٹس واچ کی عالمی کونسل کے نئے ارکان پر تنقید

39

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) ہیومن رائٹس واچ نے فلپائن، بحرین اور اریٹیریا کو انسانی حقوق کی عالمی کونسل شامل کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں اور امریکا نے ان کی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔47 ارکان پر مشتمل عالمی کونسل برائے انسانی حقوق میں 5 علاقائی بلاکس سے 18 ممالک کو بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اریٹیریا اور فلپائن کے انتہائی برے ریکارڈ کو سامنے رکھ کر کونسل میں ان کی شمولیت کی مخالفت کرے۔ ایچ آر ڈبلیو نے جنیوا میں قائم کونسل میں بحرین اور کیمرون کی شمولیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ اریٹیریا دنیا کے آمریت پسندانہ ممالک میں سے ایک ہے اور ملکی فوج میں جبری بھرتیوں پالیسی نے ہزارہا شہریوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ فوج میں جبری بھرتی ہونے والوں کو اکثر جبری مشقت اور غلامی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فلپائن میں جولائی 2016سے لے کر اب تک صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے کی منشیات کے خلاف جنگ میں 4ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم فلپائن کی حکومت نے ان ہلاکتوں پر ہونے والی عالمی تنقید کو مسترد کردیا اور اس کریک ڈاؤن میں جانی نقصان کے خلاف آواز اٹھانے والے اقوام متحدہ کے کارکنوں کو ہراساں بھی کیا۔ امریکا نے رواں برس جون میں کونسل کی رکنیت یہ کہتے ہوئے چھوڑ دی تھی کہ کونسل کا طرز عمل منافقانہ ہے اور اسرئیل کے خلاف متعصبانہ بھی۔ اقوام متحدہ کے لیے سابق امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایک بیان میں کہاکہکونسل میں معیارات کا نہ ہونا ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکا کا اس کی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ درست تھا۔ عالمی کونسل برائے انسانی حقوق کا رکن منتخب ہونے والے ایک اور ملک بحرین کا حقوق انسانی کے حوالے سے ریکارڈ مایوس کن ہے۔ اسی طرح افریقی ملک کیمرون کی فوج نے ملک کے اینگلوفون نامی علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔
عالمی کونسل/تنقید

Print Friendly, PDF & Email
حصہ