پینٹا گون اور فیس بک پر بڑے سائبر حملے،ریکارڈ چوری

68

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر سائبر حملے کے نتیجے میں غیر معمولی ڈیٹا چوری کرلیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوج کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ نا معلوم ہیکرز نے امریکی محکمہ دفاع کے سفری ریکارڈز چوری کر لیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد کا ذاتی ڈیٹا ان ہیکرز نے چوری کیا ہے ۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے امریکی محکمہ دفاع میں کام کرنے والے ہزاروں ورکرز کی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ امریکی حکومت رواں ماہ کے آغاز میں ہتھیاروں کے بڑے نظاموں کو ہیکرز کے حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے نا کافی اقدامات پر محکمہ دفاع کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔ امریکی فوج کی طرف سے جمعہ 12 اکتوبر کو بتایا گیا کہ نامعلوم ہیکرز نے محکمہ دفاع کے سفری ریکارڈز چوری کیے ۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کو بتایا کہ پینٹاگون کو اس ہیکنگ کے بارے میں 4 اکتوبر کو معلوم ہوا تاہم یہ ہیکنگ ممکنہ طور پر کئی ماہ پہلے ہوئی تھی۔ سائبر حملہ آور امریکی محکمہ دفاع کے تقریباً 30 ہزار اہلکاروں کے ذاتی اور کریڈٹ کارڈ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔ امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نقصان سے پیدا ہونے والے خطرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور متاثرہ افراد کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیکنگ کا حجم اور ہیکرز کی شناخت جاننے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں امریکا کے اہم ہتھیاروں کے نظاموں کو ہیکرز سے محفوظ بنانے میں سست روی پر محکمہ دفاع کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مبینہ طور پر چین اور روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے تحفظات کے تناظر میں امریکی فوج کے لیے سائبر سیکورٹی ایک اہم ترین ترجیح بن چکی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق روزانہ ہزاروں مرتبہ اس کے کمپیوٹر نظام پر حملوں کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری جانب فیس بک نے کہا ہے کہ اس پر ایک بڑا سائبر حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 3 کروڑ اکاؤنٹس کی تفصیلات چوری ہوگئی ہیں۔ سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ ہیکرز کے پے درپے حملوں کی وجہ سے انتہائی غیر محفوظ ثابت ہوتی جارہی ہے ۔ گزشتہ ماہ ستمبر میں فیس بک پر حملے میں 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا تھا اور کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نئے بیان کے مطابق ایک اور حملے میں مزید 3 کروڑ صارفین کے اکاؤنٹس ہیک ہوگئے ہیں۔ فیس بک کے بیان کے مطابق ہیکرز 3 کروڑ صارفین کی ای میلز اور فون نمبر چرانے میں کامیاب ہوگئے ۔ ہیکرز نے 4 لاکھ اکاؤنٹس کو استعمال کرکے 3 کروڑ صارفین کے ’ایکسس ٹوکنز‘ حاصل کیے۔ فیس بک میں پاس ورڈ ڈالے بغیر اکاؤنٹ لاگ ان کرنے کے لیے ایکسس ٹوکنز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس حملے میں 1 کروڑ 40 لاکھ صارفین کے نام، رابطہ نمبر، نجی معلومات بشمول جنس، ازدواجی حیثیت اور کہاں کہاں وہ جاتے رہے ہیں، یہ سب معلومات چوری ہوگئی ہیں۔ دیگر ڈیڑھ کروڑ کروڑ صارفین کے نام اور رابطہ نمبر چوری ہوئے ہیں۔ فیس بک نے پیج بھی جاری کیا ہے جہاں جاکر صارفین یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ متاثرہ افراد میں وہ شامل ہیں یا نہیں۔ صارفین وہ پیج کھولیں گے تو اس میں فیس بک کی جانب سے پیغام لکھا آجائے گا کہ ان کا اکاؤنٹ محفوظ ہے یا ہیک ہوچکا ہے ۔ متاثرہ صارفین کو کمپنی کی طرف سے پیغام ملے گا جس میں انہیں اکاؤنٹ کی ہیکنگ سے آگاہ کیا جائے گا۔ ایف بی آئی نے فیس بک کی درخواست پر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ فیس بک نے صارفین کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے ایکسس ٹوکنز بدل دیے ہیں اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث 559 مشتبہ پیجز اور 251 اکاؤنٹس بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ فیس بک پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی ویب سائٹ پر کئی حملے ہوچکے ہیں جن میں کروڑوں صارفین کی معلومات ہیکرز کے ہاتھ لگ چکی ہیں۔ صارفین کو خدشہ ہے کہ ہیکرز ان کی ذاتی معلومات کا غلط فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔
پینٹا گون ؍ فیس بک

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.