منج کی سرنگیں کرد جنگجوؤں کا قبرستان ثابت ہوں گی ،اردوان 

72

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اِردوان نے شام کے شہر منبج میں سرگرم کرد فورس ’کرد پروٹیکشن یونٹس‘ کے بارے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی شام سے کرد فورسز کا نہ نکلنا امریکا کے ساتھ طے پائے معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ترکی کو خطرہ محسوس ہوا تو وہ بھرپور کارروائی کرے گا۔ جنوبی ترکی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں اِردوان نے کہا کہ منبج میں کردو جنگجوؤں نے سرنگیں کیوں کھود رکھی ہیں۔ میں ان سرنگوں کو کردوں کی قبریں قرار دیتا ہوں جو انہوں نے خود ہی تیار کر رکھی ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ کرد جنگجو 90 روز کے اندر علاقہ خالی کر دیں گے ۔ ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ ترکی اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اِردوان کا کہنا تھا کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں موجود دہشت گرد ترکی کی سرحدی سے دور ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر الوعرہ ، جرابلس اور الباب سے گزر کرعفرین پہنچ رہے ہیں۔ دوسری جانب شام کے صوبے دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کئی روز سے داعش کی بچی کھچی ٹولیوں کی جانب سے خود پر کیے جانے والے حملوں کو پسپا کرنے میں مصروف ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ان حملوں کے دوران ایک کارروائی میں بے گھر افراد کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ المرصد نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سے جاری لڑائی میں ایس ڈی ایف کے 37 ارکان ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب داعش تنظیم کے 58 شدت پسند مارے گئے جن میں اکثریت نے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملوں میں اپنی جان گنوائی۔ المرصد کے مطابق داعش نے بدھ کے روز سے ایس ڈی ایف کے خلاف حملوں کا آغاز کر دیا ہے اور علاقے میں ریت کے طوفان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیموکریٹک فورسز کی پیش قدمی میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ داعش تنظیم نے ہجین کے علاقے میں اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب کہ ایس ڈی ایف بین الاقوامی اتحاد کی مدد سے ان کو پسپا کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔
منبج ؍ اِردوان

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.