کینیڈا میں مذہبی علامات  ایک بار پھر موضوع بحث

73

اوٹاوا(انٹرنیشنل ڈیسک) کینیڈا کے صوبے کوبیک کے ایک حکومتی عہدیدار نے صوبائی پارلیمان میں نصب صلیب کومذہبی علامت ماننے سے انکار کردیا۔ فرانسوا لیگو کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کے مذہبی لباس، خواتین کے حجاب اور یہودیوں کی مخصوص ٹوپی پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ اس اقدام پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا نشانہ اقلیتیں بنیں گی۔ 2008 ء میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صلیب کو پارلیمان کی عمارت سے ہٹا دینا چاہیے، جو وہاں 1936 ء سے نصب ہے۔تاہم کوبیک کی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ 2014 ء میں کوبیکوا نامی جماعت نے ایک بل کی تجویز دی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام سرکاری ملازموں کو لباس پر نمایاں مذہبی علامات ظاہر کرنے سے روکا جائے۔ بہت سے لوگوں نے اسے اسلام اور یہود دشمنی قرار دیا، تاہم حامیوں کا کہنا تھاکہ اس کا مقصد ملک میں سیکولرازم کا فروغ اور چرچ اور ریاست کو الگ کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقتدار میں آنے کے بعد لیگو کی حکومت نے تمام مذہبی علامات پر پابندی لگانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ اگر کوئی سرکاری ملازم ایسا کرنے سے انکار کرے تو اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ دوسری جانب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈوکاکہنا ہے کہ حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ خواتین سے کہے کہ وہ کس قسم کا لباس پہنیں۔واضح رہے کہ ان کا تعلق کوبیک ہی سے ہے۔ اس دوران اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین نے کہا ہے کہ وہ اس مجوزہ پابندی کی مزاحمت کریں گے۔
کینیڈا/مذہبی علاماتیار کر رہی ہے۔ اس اقدام پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا نشانہ اقلیتیں بنیں گی۔ 2008 ء میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صلیب کو پارلیمان کی عمارت سے ہٹا دینا چاہیے، جو وہاں 1936 ء سے نصب ہے۔تاہم کوبیک کی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ 2014 ء میں کوبیکوا نامی جماعت نے ایک بل کی تجویز دی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام سرکاری ملازموں کو لباس پر نمایاں مذہبی علامات ظاہر کرنے سے روکا جائے۔ بہت سے لوگوں نے اسے اسلام اور یہود دشمنی قرار دیا، تاہم حامیوں کا کہنا تھاکہ اس کا مقصد ملک میں سیکولرازم کا فروغ اور چرچ اور ریاست کو الگ کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقتدار میں آنے کے بعد لیگو کی حکومت نے تمام مذہبی علامات پر پابندی لگانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ اگر کوئی سرکاری ملازم ایسا کرنے سے انکار کرے تو اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ دوسری جانب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈوکاکہنا ہے کہ حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ خواتین سے کہے کہ وہ کس قسم کا لباس پہنیں۔واضح رہے کہ ان کا تعلق کوبیک ہی سے ہے۔ اس دوران اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین نے کہا ہے کہ وہ اس مجوزہ پابندی کی مزاحمت کریں گے۔
کینیڈا/مذہبی علامات

Print Friendly, PDF & Email
حصہ