سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ بڑھنے لگا،ماہرین

44

کراچی (اسٹاف رپورٹر) تندرستی کے لیے انسان کا جسمانی ذہنی اور معاشرتی طور پر تندرست ہونا ضروری ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کی اصل وجہ ضروریات زندگی کی سہولتوں کا فقدان ہے، کالج یونیورسٹی میں داخلہ، نوکریوں کا حصول، روزگار حاصل کرنے کے لیے گھروں سے دور رہ کر مختلف شہروں میں رہائشی مسائل وغیرہ یہ تمام ترحالات بھی ذہنی دباؤ کی شکل اختیار کرتے ہیں، عموماً ذہنی بیماریاں 12 سے14 سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور دنیا بھر میں ہر سال10 اکتوبر کو ذہنی بیماریوں کے تدارک، اس کی روک تھام کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین کراچی نفسیاتی اسپتال ڈاکٹر سید مبین اختر، منتظم اعلیٰ ڈاکٹر عبدالرحمن بن مبین اور معروف ماہر نفسیات اختر فرید صدیقی نے کراچی نفسیاتی اسپتال میں منعقدہ سیمینار سے ’’عالمی یوم ذہنی صحت‘‘ کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا۔ ماہرین نے کہا کہ 25 فی صد آبادی ذہنی امراض سے متاثر ہے یعنی ہر چار میں سے ایک شخص ذہنی بیمار ہوتا ہے، معاشرتی مسائل کا نشانہ تو سب بنتے ہیں تاہم زیادہ متاثر ہونے والے معمول کے کام انجام نہیں دے سکتے اور بعض اوقات ان کے گھر والے بھی ان کی ذہنی کیفیت سے لاعلم رہتے ہیں اس طرح پا کستان میں3 سے 4 کروڑ افراد ذہنی مرض میں مبتلا ہیں، ایک اندازے کے مطا بق 70 فی صد کسی بھی معالج کے پاس نہیں جا تے، کم علمی، جہالت اور معاشرتی بدنامی کے خوف سے جعلی حکیموں، اتائیوں اور باباؤں کے مزاروں کے چکر لگاتے ہیں، اکثر علاج کے لیے آنے والوں میں ڈپریشن کے26.2 فی صد، جنون و یاسیت کے 13 فی صد، شدید گھبراہٹ اور خوف کے5 فی صد، خیالات کا تسلط اور تکرار عمل کے 4.3 فی صد، شیزو فرینیا کے 15 فی صد اور جنسی و نفسیاتی امراض کے13.1 فی صد ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کا قیام66 سال قبل1948ء میں ہوا جس کے150 سے زائد ممالک میں ممبران موجود ہیں، اس کے قیام کا مقصد دنیا کو ذہنی امراض اور ان کے تدارک سے مکمل آگہی فراہم کرنا ہے، ایک اچھا ڈاکٹر صرف بیماری کی تشخیص نہیں کرتا بلکہ وہ انسان کے اندر خود اعتمادی اور عزت نفس کو بحال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 300 سے 400 ماہر ذہنی امراض موجود ہیں جو 20 کروڑ کی آبادی کے لیے بہت ہی کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ذہنی بیماریوں میں فوراً ماہر نفسیات سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ بہتری کی طرف آجا تے ہیں لیکن تاخیر کرنے والے گھر والوں اور معا شرے کے لیے بھی پریشانیاں پیدا کرتے ہیں، مریض کے گھر والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ڈاکٹروں سے تعاون کر کے مریض کی مکمل کیفیات سے آگاہ اور دوائیں وقت پر کھلانے میں ڈاکٹرز کی مدد کریں۔ پروگرام کے اختتام پر بہتر کارکردگی پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.