پورٹ قاسم کے محنت کشوں کوتنخواہیں دی جائیں،لیاقت ساہی

34

کراچی(پ ر)مزدور رہنما لیاقت علی ساہی نے کراچی پریس کلب پر قاسم پورٹ ڈاک ورکرز یونین کے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی قیادت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو سلوگن کے طور پر محنت کشوں کو ڈھال بنا کر اقتدار کی سیڑھی عبور کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اقتدار حاصل کرلیتے ہیں تو سرمایہ داروں کے مفادات کو تقویت پہنچانے کیلیے اداروں میں محنت کشوں کا نہ صرف معاشی قتل کرتے ہیں بلکہ ملک کے آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کو سلب کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس کی واضح مثال پورٹ قاسم کے محنت کشوں کی ہے۔ گزشتہ 40سال سے پورٹ قاسم پر کام کرنے والے محنت کشوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں لیکن سیاسی اور ذاتی مفادات کی خاطر تمام حکومتوں نے محنت کشوں کا استحصال کیا ہے ۔ 9 ماہ سے ورکروں کو تنخواہ ادا نہیں کی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کو بہت بڑے بحران سے بچانے کیلیے ضروری ہے کہ جی ایس پی پلس معاہدے کی روشنی میں پاکستان کی تمام انڈسٹریز کو پابند کیا جائے کہ آئی ایل او کنونشن87ء اور 98ء پر عمل درآمد کیا جائے بالخصوص سی پیک میں چین کی جن کمپنیوں کی مصنوعات استعمال ہو رہی ہیں وہ آئی ایل او کے کنونشن پر عمل درآمد کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو چین کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی جائے گی کہ ان تمام مصنوعات پر پابندیاں نافذ کی جائیں جو سی پیک کا حصہ ہیں اس ضمن میں تمام تر ذمے داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ لیبر قوانین کے تحت سی بی اے یونین کے ساتھ سی او ڈی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے محنت کشوں کے مسائل کو حل کرنے کی ادارے کی انتظامیہ پابند ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ وہاں چین کی کمپنی کو اختیار دیا ہے جو سی پیک کی بنیاد پر ورکروں کو بلیک میل کر رہی ہے اور ان کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے جس کے سامنے وفاقی حکومت خاموشی تماشائی بنی ہوئی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.