ملیرمیں زہریلے پانی سے سبزیاں کاشت کرنے کا انکشاف 

32

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے مضافاتی علاقوں میں زہریلے پانی سے سبزیاں کاشت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ملیر ندی کے ارد گرد600 ایکڑ اراضی پر واقع سبزیوں کے کھیت میں لگی سبزیاں فیکٹریوں کے فضلے سے سیراب کی جاتی ہیں جن کے باعث شہریوں میں کینسر اور ہیپا ٹائٹس جیسے مہلک امراض پھیلنے لگے ہیں۔ ملیر ندی کے اطراف واقع اراضی پر ٹماٹر، بھنڈی، تورئی، بینگن اور دیگر سبزیاں اگائی جا رہی ہیں جن کو سیوریج اور فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا گندا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ سال2013ء میں بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا جس پر کمشنر کراچی و دیگر حکام نے کارروائی کرتے ہوئے زہریلے پانی سے اگائی
جانے والی تمام سبزیاں اکھاڑ دی تھیں۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک یہ سلسلہ رک گیا تھا تاہم رواں سال یہ گورکھ دھندہ دوبارہ شروع ہوگیا اور ان سبزیوں کی کاشت بھی بڑھ کر 600 ایکڑ کے رقبے تک پہنچ گئی ہے۔ کراچی کی سبزی منڈی میں مضرِ صحت سبزیاں دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ ان سبزیوں کی شناخت بھی مشکل ہے۔ صدر ویجیٹیبل مارکیٹ حاجی شاہ جہاں کے مطابق منڈی میں ایسی سبزیاں لائی جاتی ہیں اور منڈی میں آنے والی گاڑیوں کی تعداد کا ریکارڈ تو مرتب ہوتا ہے لیکن یہ گاڑیاں کہاں سے سبزیاں لے کر آتی ہیں؟ اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ماہرین صحت نے ایسے پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیوں کو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر اور مہلک قرار دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ