پانی چوروں سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ وپولیس سے مددطلب

34

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) ایم ڈی واٹر بورڈ خالد محمودشیخ نے غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور پانی چوروں کیخلاف آپریشن کے لیے شہری و ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مددطلب کرلی ہے جبکہ واٹربورڈ کے ڈس کنکشن اسکواڈ بلک ڈپارٹمنٹ ، واٹرٹرنک مین ڈویژن ،واٹرڈسٹری بیوشن ونگ اور ڈس کنکشن اسکواڈ کو تیز کرنے کی ہدایات دے دی ہیں،مشینری و عملہ تیاررکھا جائے ،ملنے والی خفیہ اطلاعات پر کسی بھی وقت کارروائی کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایم ڈی واٹربورڈ خالد محمود شیخ نے ایک فوری مراسلہ کے ذریعے شہری وضلعی انتظامیہ اور پولیس سے غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور پانی چوروں کیخلاف کارروائی کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے ایک مکتوب میں ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا کہ واٹربورڈ شہر اور مضافات میں مسلسل غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور پانی چوروں کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے اسے اکثر پانی چوروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے پانی چور مختلف علاقوں میں واٹربورڈ کی لائنوں کے ذریعے پانی چوری کرے شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، واٹربورڈ اب تک سیکڑوں غیرقانونی ہائیڈرنٹس مسمار کرچکا ہے ،جبکہ متعدد پانی چوروں کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی کرایا گیا ہے ،اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے واٹربورڈ کو شہری وضلعی انتظامیہ اور پولیس کا تعاون درکار ہے ،علاوہ ازیں ایم ڈی واٹربورڈ نے واٹربورڈ کے تمام متعلقہ شعبہ جات کوزیر زمین پانی کے غیرقانونی کاروبار میں ملوث افراد غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور پانی چوروں کے خلاف جاری آپریشن میں مزید تیزی لانے کی ہدایات جاری کردی ہیں، انہوں نے کہا کہ پانی چور کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے ،ملنے والی کسی بھی خفیہ اطلاع پر تمام متعلقہ شعبہ جات کو کسی بھی پہر طلب کیا جاسکتا ہے اس لیے مطلوبہ مشینری اور عملے کو تیار رکھا جائے ،انہوں نے کہا کہ دو روز قبل بھی لانڈھی کے علاقے میں اچانک کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری کے آڑ میں قائم سب سوائل واٹر ہائیڈرنٹ کو مسمار کیا جاچکا ہے،جبکہ فیکٹری کو سیل کرنے کے علاوہ فیکٹری انتظامیہ کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ پانی چوری میں ملوث پائے جانے پر واٹربورڈ کے چیف سیکورٹی آفیسر کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا نیز متعدد دیگر ملازمین کا تبادلہ اور بعض کو معطل کردیا گیا ہے ،اگر پانی چوری میں واٹربورڈ کا کوئی ملازم ملوث پایا گیا تو اس کیخلاف بھی بلا لحاظ عہدہ فوری کارروائی کی جائے گی ،انہوں نے شہریوں سے بھی درخواست کی کہ وہ پانی چوری کیخلاف واٹربورڈ سے تعاون کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ