اردوادب کے لیے منیرنیازی کیخدمات یاد رکھی جائیں گی انورشعور

28

کراچی( پ ر) منیر نیازی ایک منفرد اور مختلف شاعر تھے، ان کی شاعری سچائی کی عکاسی کرتی ہے، اردو ادب کے لیے جو کام انہوں نے کیا اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان خیالات کا اظہاراردو ادب کے معروف شاعرانور شعور نے آرٹس کونسل کراچی کی لائبریری کمیٹی کے زیراہتمام منعقد کی گئی تقریب ’’ایک شام منیر نیازی کے نام ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ اردو ادب کی مشہور شخصیات پر مبنی کتابیں لکھیں تاکہ اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ پروفیسر میر حامد نے کہا کہ منیرنیازی ایک مشہور شاعر کے ساتھ ساتھ ایک مشہور کالم نگار بھی تھے انہوں نے اردو کو ایک اہم خاص ذخیرہ فراہم کیا ہے۔پروفیسر ہارون رشید نے کہا کہ منیر نیازی اپنی شاعری میں سماج کی برائیوں کے بارے میں لکھتے تھے ، ان کی شاعری میں گمان اور جستجو کا اہم کردار ہے۔ آرٹس کونسل کی لائبریری کمیٹی کے چیئرمین سہیل احمد نے کہا کہ منیر نیازی ایک عظیم شاعر تھے، اردو ادب میں منیر نیازی ایک نامور شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ سیکریٹری انجمن ترقی اردو پاکستان فاطمہ حسن نے منیر نیازی کی یاد میں اقتباسات پڑھیں جن میں ان کی زندگی کے اہم واقعات کو بیان کیاگیا۔ اس تقریب کے موقع پر آغا مسعود ، اعزاز قریشی ،صبیہا صبا،فہیم برنی اوردیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر محمد محسن نے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے آرٹس کونسل کے صدرمحمد احمد شاہ ،تمام مقررین اور شرکاء سے اظہار تشکر کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.