بھارت کو 10 گنا زیادہ طاقت سے جواب کی صلاحیت رکھتے ہیںِ،پاک فوج 

118

لندن (خبر ایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک بھارت کی دیومالائی کہانی ہے، پڑوسی ایک سرجیکل اسٹرائیک کرے گا تو 10گنا زیادہ طاقت سے جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،پاکستان کی طاقت پر شک نہیں ہونا چاہیے،ہمارے جرنیلوں نے ہتھیار اٹھا کر جنگ لڑی ہے،دہشت گردی کیخلاف 76ہزار جانیں گنوائیں،لیگی حکومت نے فوج کی تمام ضروریات پوری کیں،عام انتخابات انتہائی شفاف اور آزادا نہ تھے،جمہوریت کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے، کرپشن کیخلاف مہم سے فوج کا تعلق نہیں، ملک میں فوج کا احتسابی نظام رائج کیا جائے تو تمام مسئلے حل ہوجائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز(آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے ہفتے کو لندن میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج مشرقی اور مغربی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف ہے، ہمارا کام ملک کی سیکورٹی اور امن کو یقینی بنانا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو دیومالائی کہانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے بھارت جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر پڑوسی ملک نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو ہم 10منٹ میں اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔بھارت نے ایک سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان 10 اسٹرائیک کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کو پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ان کے کام کے طریقہ کار اور ان کے پیغام سے اختلاف ہے جس سے وہ پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا رہنما ایک پاکستانی ہے جس نے آرمی کے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور کسی بھی موقع پر فوج نے ان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے کہا ہم نہیں بھول سکتے کہ فاٹا اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں نے پاک فوج اور پاکستانیوں پر حملے کیے اور پھر ان کے سروں سے فٹ بال کھیلی گئی۔فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ منظور پشتین کے پاس بیرون ملک منظم احتجاج کرنے کی کوئی طاقت نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان احتجاجوں کے پیچھے کون ہے اور ان کو ملنے والی مالی امداد کے ذرائع کیا ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور پاکستان کے عوام کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کچھ حاصل کیا، اس لحاظ سے ہم مسلم دنیا میں کامیابی کی واحد مثال ہیں، پاکستان میں امن و استحکام کے لیے ہم نے 76ہزار سے زاید پاکستانیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سبب ملک کا نظام خراب ہو گیا، ہمیں اس نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور گزشتہ 5سالوں میں اس نظام نے صحیح طریقے سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان ماضی سے بہت بہتر ہے، پہلے دن میں 2 سے 3 بم دھماکے ہوا کرتے تھے لیکن اب مکمل امن ہے۔ کراچی میں بھی جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کا ملک میں احتساب اور کرپشن کے خلاف جاری مہم سے کوئی تعلق نہیں، فوج کا اپنا احتساب کا سخت نظام ہے جو انتہائی مضبوط ہے اور اگر اس احتساب کے نظام کو پورے ملک میں یکساں لاگو کر دیا جائے تو تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لیے کام جاری رکھیں گے، فوج یقین رکھتی ہے کہ جمہوریت ہی میں ملک کی بقا اور آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے اور ادارے کی حیثیت سے فوج تمام جمہوری قوتوں کو بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔پاکستان میں سیاسی تقسیم کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس میں سیاسی اختلافات نہ ہوں، یہ جمہوریت کا حسن ہے اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے لیکن یہ اختلافات اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں اور کسی کو بھی دوسرے کی تضحیک یا ذاتیات پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ووٹ کی طاقت کے ذریعے پہلے مسلم لیگ ن نے حکومت کی، پھر پاکستان تحریک انصاف نے اور مستقبل میں کوئی اور کرے گا۔اس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے فوج کے تمام مطالبات کو سنا اور دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں مکمل مدد اور تعاون کیا۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ2018ء کے عام انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے شفاف الیکشن تھے، ملک کے اکثر علاقوں میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھا گیا اور لوگوں نے اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق ووٹ کاسٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران دھاندلی کے الزامات لگائے گئے لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے 7فوجی جرنیلوں کی بیرون ملک موجودگی کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف 2 جنرلز ہیں جو بیرون ملک مقیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف بیرون ملک ہیں جبکہ جنرل کیانی، جنرل کرامت اور جنرل کاکڑ پاکستان میں ہی رہ رہے ہیں۔پرویز مشرف بیرون ملک اس لیے ہیں کیونکہ وہ سیاست میں آ گئے اور ان پر سیاسی الزامات ہیں۔ پرویز مشرف فوج کے جنرل ضرور تھے لیکن ان کی سیاست سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جنرل راحیل شریف اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں اور حکومت کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے بعد بیرون ملک گئے-

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.