ڈاکٹر مجاہد کامران ہتھکڑی معاملہ، ڈی جی نیب نے معافی مانگ لی

95

لاہور (نمائندہ جسارت) ڈاکٹر مجاہد کامران کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے سے متعلق ازخود کیس کی سماعت پر ڈی جی نیب نے عدالت میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی اور ڈی جی نیب نے عدالت میں تحریری معافی نامہ جمع کروا دیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ڈی جی نیب کی تحریری معافی کے بعد ازخود نوٹس نمٹا دیا ۔ دوران سماعت فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ قصور وار ہیں تو آپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتا ہوں۔پھر آپ مقدمے میں اپنی ضمانتیں کرواتے پھریں اور آپ کو بھی ہتھکڑیاں لگواتا ہوں۔ ڈی جی نیب عدالت میں آبدیدہ ہو گئے چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی باری آئی ہے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ڈی جی نیب نے بتایا کہ مجاہد کامران کو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائیں کیونکہ وکلا عدالت کے باہر احتجاج کر رہے تھے ، جس کی وجہ سے ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا تھا۔ اس لیے ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر ملزمان کو ہتھکڑیاں لگائیں۔ جس پر فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا وکلا دہشت گرد ہیں، جن سے مجاہد کامران کو سیکورٹی کا خدشہ تھا۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ سے خود جا کر سے معافی مانگ لی ہے۔ ڈی جی نیب نے کہا کہ ہم نے کرپشن کے خلاف بہت کام کیے ہیں ۔ جس پر چیف جسٹس کیا کام کیا ہے نیب نے کیا کارکردگی ہے ۔ لوگون کی تضحیک اور پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ آپ کیا کارکردگی ہے۔ ہتھکڑی مجاہد کامران اور پروفیسرز کی موت ہے ۔ میں استاد کی بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا ۔اگر آپ ڈی جی نیب کے عہدے کے اہل نہیں تو چھوڑ دیں۔ چیف جسٹس نے ڈی جی نیب کی تحریری معافی کے بعد ازخود نوٹس نمٹا دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.