ضمنی انتخابات کی تیاریاں مکمل،ووٹنگ آج ہوگی،پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات 

93
لاہور: ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا عملہ فوج کی زیرنگرانی سامان پولنگ اسٹیشن منتقل کررہا ہے
لاہور: ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا عملہ فوج کی زیرنگرانی سامان پولنگ اسٹیشن منتقل کررہا ہے

کراچی /اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر نمائندہ جسارت) قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 35 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ آج ہو گی، پولنگ صبح 8سے شام 5بجے تک جاری رہے گی ۔پولنگ اسٹیشنزکے اندر اور باہر فوج تعینات ہوگی جبکہ حساس پولنگ اسٹینشز کی سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی نگرانی کی جائے گی۔ قومی اسمبلی کی 11، پنجاب اسمبلی کی 11، خیبر پختونخوا اسمبلی کی 9، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی 2،2 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں 92لاکھ سے زایدووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ملک بھر میں 7ہزار489 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 1727 حساس قرار ددیے گئے ،21ہزار 873پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں،51ہزار 235 پولنگ عملہ ڈیوٹی انجام دے گا،ضمنی انتخابات میں پہلی بار سمندر پار پاکستانی بھی حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔صوبائی الیکشن کمشنر یوسف خٹک نے کہا ہے کہ سندھ میں 3 حلقوں کے ضمنی انتخاب کے لیے فارم 45مہیا کردیے ،پرزائیڈنگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ رزلٹ اکٹھا کرکے پولنگ ایجنٹس کو فارم دے دیا جائے ۔عملے کو سیکورٹی کے ساتھ پولنگ اسٹیشنز بھیج رہے ہیں،جہاں سے فول پروف سیکورٹی میں نتائج واپس ایکسپو سینٹرلائے جائیں گے ۔این اے243 میں 92،پی ایس 30 میں 89 اور پی ایس 87 میں 20 پولنگ اسٹیشن حساس قرار دیے گئے ہیں۔کراچی میں وزیر اعظم عمران خان ، صدر مملکت عارف علوی اور اور گورنر سندھ اسماعیل کی چھوڑی گئی نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔NA-131 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی کے ہمایوں اختر،NA124 میں شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کے غلام محی الدین کے درمیان مقابلہ ہے ۔ کراچی کے حلقہNA-243 میں پی ٹی آئی اور متحدہ کا کانٹے کا مقابلے کی توقع ہے۔1727پولنگ حساس اسٹیشنوں میں پنجاب کے 848، سندھ کے 201،خیبر پختونخوا کے 544اور بلوچستان کے134پولنگ اسٹیشن شامل ہیں،پنجاب میں 5193،سندھ میں 544خیبر پختونخوا میں 1555اور بلوچستان میں 197پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں ۔ ضمنی انتخابات کے لیے 641امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے جن 11حلقوں میں انتخابات ہوں گے ان میںNA-35بنوں، NA-53اسلام آباد،NA-56اٹک، NA-60 راولپنڈی ،NA-63 راولپنڈی ،NA-65چکوال ،NA-69گجرات ، NA-103فیصل آباد، این اے 124، 131لاہور اور NA-243کراچی شامل ہیں۔خیبر پختوانخوا کے حلقوں PK-3سوات، PK-7سوات، PK-44صوابی ، PK-53مردان، PK61نوشہرہ ،PK-64نوشہرہ ،PK-78پشاور، PK-97ڈیرہ اسماعیل خان اور PK-99ڈیرہ اسماعیل خان ۔پنجاب اسمبلی کے حلقوں PP-3اٹک ، PP-27جہلم، PP-103فیصل آباد ،PP-118 ٹوبہ ٹیک سنگھ ،PP-164لاہور، PP-165لاہور، PP-204ساہیوال ، PP-222 ملتان ، PP-261رحیم یار خان ،PP-272مظفر گڑھ اور PP-292ڈیرہ غازی خان ۔ سندھ اسمبلی کے 2 حلقوں PS-87 ملیر اور PS-30خیرپور اور بلوچستان اسمبلی کے دو حلقوں PB-35مستونگ ، اور PB40خضدار میں ضمنی انتخابات ہوں گے۔علاوہ ازیں کراچی میں این اے 243 کے ضمنی انتخاب میں 22 امیدوار میدان میں ہیں، یہ نشست وزیراعظم عمران خان نے خالی کی تھی۔حلقے میں ایم کیو ایم کے عامر ولی الدین چشتی، تحریک انصاف کے عالمگیر خان اورپاک سرزمین کے آصف حسنین سید کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔این اے 243 کے لیے 216 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جبکہ یہاں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 11 ہزار 510 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 91ہزار 221ہے۔پی ایس 87 میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار شریف احمد خان کے ٹریفک حادثے میں انتقال کرجانے کے باعث حلقے میں انتخاب ملتوی ہوگیا تھا۔ملیر کے علاقوں پر مشتمل اس حلقے سے پی ٹی آئی کے قادر بخش خان گبول،پیپلز پارٹی کے محمد ساجدجوکھیو، پی ایس پی کے محمد سلیم، ایم کیو ایم پاکستان کی خالدہ طیب، تحریک لبیک کے قربان علی، عوامی نیشنل پارٹی کی صائقہ نور اور ایم ایم اے کے حمد اللہ سمیت 26امیدوار میدان میں اترے ہیں۔یہاں 124 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 83ہزار 992جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 62ہزار 860ہے۔کراچی کے حلقے NA-247کی نشست ڈاکٹر علوی کے صدرمملکت منتخب کے باعث خالی ہوئی تھی ، اس نشست پر پی ٹی آئی کے آفتاب حسین صدیقی، پی ایس پی کے ارشد وہرا، ایم کیو ایم کے صادق افتخار اور پی پی کے قیصر خان نظامانی سمیت 12امیدوار میدان میں ہیں۔ڈیفنس، کلفٹن، صدر، کراچی کنٹونمنٹ اور آرام باغ کے علاقوں پر مشتمل اس حلقے میں 240پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں ،رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد 543964 ہے۔PS-111کی نشست عمران اسماعیل منتخب ہوئے تھے ان کے گورنرسندھ منتخب ہوجانے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی ہے۔اس نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کے جہانزیب مغل، تحریک لبیک کے سکندر اگر، پی ٹی آئی کے شہزاد قریشی، سنی تحریک کے علی نواب، پیپلز پارٹی کے فیاض پیرزادہ، پی ایس پی کے یاسر الدین اور معروف سماجی کارکن جبران ناصر قابل ذکر ہیں۔سول لائنز اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ پر مشتمل اس حلقے میں 94719مرد اور 84246خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.