چینی قرضوں کی وجہ سے پاکستان کو آئی ایم ایف جانا پڑا ،امریکا تاثر درست نہیں،پاکستان

38

واشنگٹن ( آن لائن،آئی این پی )امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوارٹ نے کہا ہے کہ چینی قرضوں کے بوجھ کے سبب پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔پاکستان کی پوزیشن کو ہر زاویے سے دیکھا جائے گا۔واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے حکومتوں کا خیال ہو کہ بیل آؤٹ کے لیے یہ قرض اتنا بوجھل نہیں ہو گا مگر اب سخت تر ہوتا جارہا ہے۔ ہیدر نوارٹ نے کہا کہ معاملے کا پاکستان کے موقف سمیت تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں، یہ بات واضح نہیں کہ اگر اّئی ایف قرض دے گا تو کن شرائط پر دے گا اور انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گایا نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے قرضوں کی بارے میں مکمل اور شفاف معلومات مانگی ہیں بالخصوص چین سے لیے گئے قرضوں کی تفصیلات پر زور دیا ہےآئی ایم ایف نے ساتھ ہی پاکستان کو امریکی تحفظات سے بھی آگاہ کیا ہے۔پاکستان نے چین کی حکومت اور بینکوں سے تقریبا پانچ ارب ڈالر کا قرض لے رکھا ہے ۔ ترجمان نے پاکستان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا اس کی ایک وجہ چینی قرضے بھی ہیں تاہم انہوں نے امریکی قرضوں کی بات نہیں کی۔دوسری جانب آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لوگارڈ نے کہا کہ قرضوں کی شفافیت اور ان کا واضح کیا جانا صرف پاکستان کے لیے نہیں اس کا اطلاق تمام قرض مانگنے والے ممالک پر ہوتا ہے، تاکہ قرضوں کی پائیداری سے متعلق نہ صرف اپنے رکن ممالک کا اتفاق حاصل کیا جاسکے، بلکہ یہ گورننس اور کرپشن کے حوالوں سے آئی ایم ایف بورڈ کے طے کردہ اصولوں کے سبب ہے جن کا اطلاق کیا جارہا ہے۔کرسٹین لوگارڈ نے یہ بھی کہا کہ اّئی ایم ایف اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق بھی تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے اور ادارے کی کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ رکن ممالک کو یہ معاونت فراہم کی جائے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو درپیش اقتصادی مشکلات کی ایک وجہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ‘ سی پیک’ سے منسلک قرضوں کو قرار دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے ۔اقتصادی امور سے متعلق پاکستان حکومت کی ترجمان فرح سلیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا تعلق چین پاکستان اقتصادی رہداری سے منسلک قرض نہیں ہیں کیونکہ ان کے بقول ان کی فراہمی کو فوری واپسی کاپاکستان کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے بلکہ اس قرض کی واپسی آئندہ تین سے چار سال کے بعد شروع ہوگی۔جمعے کو وائس آف امریکہ سے گتفتگو کرتے ہوئے فرح سلیم نے کہا کہ پا کستان کی مو جودہ معاشی مشکلات کا تعلق پاکستان کی توانائی کی شعبے سے متعلق گردشی قرضے ہیں جن میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل اضافہ ہوتارہا ہے اور یہ قرضے اب 13 سو ارب رپے تک پہنچ چکے ہیں۔وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے بھی جمعہ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے سی پیک منصوبہ کو پاکستان کے لیے قرضوں کا بحران قرار دینے کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت چین سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کی واپسی کا عمل 2021سے شروع ہوگا۔ ابتدائی طور پر 300سے 400ملین ڈالرز سالانہ چین کو قرضوں کی مد میں واپس کیے جائیں گے جو 2024-2025میں بڑھ کر 3.5ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ قرضوں کی واپسی کا عمل آئندہ 25سالوں میں مکمل ہوگا ۔ سی پیک منصوبے پر خوش اسلوبی سے کام جاری ہے ۔اب دونوں ممالک کے مابین اتفا ق رائے سے اسے وسعت دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ سی پیک کے باعث فوری طور پر پاکستان کو کسی بھی قسم کے مالیاتی دباؤ اور قرضوں کے بحران کا سامنا نہیں ہے۔ قرضوں کے بحران کے حوالے سے مبالغہ آرائی سی پیک منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ سی پیک منصوبوں میں گزشتہ چار سالوں کے دوران اب تک ملک میں 22منصوبوں پر 28ارب ڈالرز خرچ کیے گئے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.