اسٹیٹ بینک و منی چینجرز ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ذمے دارقرار

50

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں روپے کی قدر میں 9 فی صد کمی کے ذمے دار گورنر اسٹیٹ بینک اور منی چینجرز ہیں، اسٹیٹ بینک کی پیشہ وارانہ غفلت کی وجہ سے منی چینجرز نے مالی فائدہ اٹھایا اور ملک میں بحران کھڑا کیا ۔وزارت خزانہ کے ایک ذمے دار ذریعے کے مطابق حکومت نے جب نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کو ہٹایا تھا تو اس وقت اسٹیٹ بینک کے2 ڈپٹی گورنر بھی فارغ کیے گئے تھے، ان کی فراغت کے بعد ابھی تک کسی اورکو ڈپٹی گورنر نہیں لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے بینک میں انتظامی امور متاثر ہورہے ہیں۔ ذریعے کے مطابق جب گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ‘ وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکرٹری خزانہ آئی ایم ایف سے بات چیت کے لیے پاکستان سے انڈونیشیا روانہ ہوئے تو ان کی عدم موجودگی میں منی چینجرز مافیا نے کام دکھا دیا اور اس وقت ملک میں اسٹیٹ بینک میں گورنر اور ڈپٹی گورنر کی عدم موجودگی میں ایک ایگزیکٹو آفیسر ہی کام کر رہے تھے ،ان کے پاس اختیار تھا کہ کارروائی کرتے لیکن انہوں نے بھی اپنا اختیار استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھا یا وہ صورت حال کو سمجھنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے ایک روز میں ملک میں ڈالر کی قدر9 فی صد بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں ملک پر غیر ملکی قرضوں میں 9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ نے اس معاملے کا نوٹس لیا اسی لیے ڈالر کی شرح کم ہونا شروع ہوئی لیکن اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو آفیسر کو ضرور یہ صورت حال مانیٹر کرنی چاہیے تھی اور اپنا اختیار استعمال کرکے منی چینجرز مافیا کو روکنا چاہیے تھا۔ ذریعے کے مطابق اس صورت حال میں خرابی کی ایک بڑی وجہ تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی کا وہ بیان بھی ہے جس میں انہوں نے ڈالر کے 140 تک جانے کی پیش گوئی کی تھی، جس کے بعد منی چینجرز مافیا نے اپنا کام دکھایا لیکن ابھی تک تحریک انصاف کی قیادت نے علی زیدی کی کوئی مناسب سرزنش نہیں کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.