جمہوریت کا بنگلادیشی ماڈل

186

 

 

پاکستان میں کیا کچھ ہورہا ہے اور کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جو ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے تاہم صورت حال میں مزید تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب اس بحث میں شامل لوگوں میں مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا عنصر بڑھنے لگا ہے۔ اس کی وجہ نہ تو معاشی حالات ہیں اور نہ ہی امن و امان کی خراب صورت حال۔ اس کی وجہ سیاسی حالات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ تاریخی دور ہے کہ دو جمہوری حکومتوں نے مسلسل اپنا دور مکمل کیا اور انتخابات باقاعدگی سے عمل میں آئے۔ ان انتخابات کے نتائج جو بھی سامنے آئے مگر حکومتوں کی تبدیلی کا عمل ہموار تھا۔ سیاسی جماعتوں نے انتہائی بالغ نظری کا ثبوت دیا اور طالع آزماؤں کو اقتدار سے باہر رکھا۔ یہ جمہوریت کی فتح ہے، یہ عوام کی فتح ہے۔ رہی بات بدعنوانوں کی، خراب طرز حکومت کی اور بدمعاشیہ عرف اشرافیہ کی خرمستیوں کی تو یہ سب کچھ وقت کے ساتھ ساتھ درست ہوجائے گا۔ ابھی تو جمہوریت کی گاڑی رواں دواں ہوئی ہے۔ ایک دو اور انتخابات وقت پر ہوجائیں تو سارا کچرا فلٹر ہوجائے گا اور دیگر جمہوری مملکتوں کی طرح یہاں پر بھی صاف ستھرا سیاسی نظام سامنے آئے گا۔
کیا ایسا ہی ہے؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ہم ایک ایسے راستے کی طرف چل پڑے ہیں جس کا انجام کہیں سے بھی وہ نہیں ہے جو بتایا جارہا ہے۔ کسی بھی ریاست اور حکومت کے استحکام کے جتنے بھی عناصر ہیں، وہ تباہ کردیے گئے ہیں۔ ریاست کے چار ستون ہوتے ہیں۔ مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ۔ مقننہ یا پارلیمنٹ سیاست دانوں پر مشتمل ادارے کا نام ہے۔ اس ادارے کا کام ہے کہ ملک اور عوام کے مفاد میں قانون بنائے اور ملک کے دفاع اور خوشحالی کو مقدم رکھے۔ انتظامیہ یا بیوروکریسی کسی بھی ریاست کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ سول سروس سے تعلق رکھنے والے یہ افسران میرٹ پر منتخب ہو کر آتے ہیں اور ملک کے مفاد میں قوانین کے مطابق ریاست کو چلاتے ہیں۔ یہ ریاست کا تسلسل بھی ہوتے ہیں اور ریاست کے نگہبان بھی۔ عدلیہ کا کام افراد کے تنازعات کو نمٹانے کے علاوہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ مقننہ نے ریاست کو چلانے کے لیے جو فریم ورک (آئین) دیا ہے، اس کے خلاف کوئی کام نہ ہونے پائے۔ آئین کے مطابق فرد کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ ذرائع ابلاغ کا کام فرد تک اطلاعات کو درست طریقے سے پہنچانا ہے تاکہ اگر آئین کے برخلاف کچھ ہورہا ہو تو عوام کو اس کی اطلاع ہو اور عوام مقننہ کے ذریعے اس کی روک تھام کرسکیں۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس پر آج کے دور میں کسی بھی ریاست کا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔ دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح بدقسمتی سے پاکستان میں بھی یہ تمام ادارے ریشہ دوانیوں کا شکار ہوکر اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔
سیاست دانوں کی حالت سب ہی جانتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے کسی بھی فرد کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو بل پیش کیا گیا ہے، وہ اصل میں ہے کیا اور اس کے ملک اور معاشرے پر کیا اثرات ہوں گے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہر فرد کا صرف اور صرف ایک ہی مطلب ہوتا ہے اور وہ ہے کہ اسے کتنی مالی منفعت کس طرح سے حاصل ہوسکتی ہے۔ یہ خود سے اپنی تنخواہ اور مراعات طے کرتے ہیں اور اسے ٹیکس سے مبرا بھی قرار دے لیتے ہیں۔ چونکہ یہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرکے پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں، اس لیے صرف اور صرف ان کا ایک ہی مطمح نظر ہوتا ہے اور وہ ہے کہ کسی بھی طرح اس رقم کی بھاری سود سمیت وصولی۔ اس طرح ریاست کا پہلا ستون سب سے پہلے تباہ ہوا۔ اس تباہی کی تاریخ سے ہر ایک واقف ہے۔
دوسرا ستون انتظامیہ بھی بدعنوانی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ اب سول بیوروکریسی میں بھرتی و تقرر میرٹ پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد بھی سیاسی ہوچکی ہے۔ سیاسی خانوادے اپنے خاندان کے لوگوں کو سول بیوروکریسی میں خلاف ضابطہ بھرتی کرواتے ہیں اور ان کا کلیدی اسامیوں پر تقرر کرواتے ہیں۔ اب انتظامیہ یا بیوروکریسی بدعنوان ہونے کے ساتھ ساتھ نااہل افراد پر مشتمل ادارے کا نام ہے۔
مملکت کا چوتھا ستون ذرائع ابلاغ برقی میڈیا کے آنے کے ساتھ ہی بدعنوانیوں کے سمندر میں غرق ہوچکا ہے۔ اب میڈیا مالکان کے ساتھ ساتھ اس میں کام کرنے والے بھی اس غرقابی سے نہیں بچ سکے۔ جس طرح سیاست دان اور بیوروکریٹ کے اثاثے نامعلوم طریقے سے بڑھتے رہتے ہیں، بالکل اسی طرح میڈیا سرکس میں کام کرنے والے اور اس کے مالکان بھی بھاری اثاثوں کے مالک ہیں۔
ریاست کا تیسرا ستون عدلیہ بچا تھا جس پر عوام کو اعتماد تھا۔ حالاں کہ جن لوگوں کو ذرا بھی زیریں عدالتوں سے واسطہ پڑا ہو، وہ کان پکڑتا ہے تاہم اعلیٰ عدالتی نظام پر عمومی طور پر اعتماد باقی تھا۔ خاص طور پر ایسے مقدمات جن میں فرد پر ریاست کی زیادتی کا معاملہ ہو، عوام کو اعتماد تھا کہ عدلیہ موجود ہے جہاں سے وہ ریاست کی زیادتیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا تو سب سے پہلے آئین کو نشانہ بنایا گیا۔ آئین یا تو منسوخ کردیا گیا یا اسے معطل کردیا گیا اور دوسرے ہی لمحے عدلیہ کو قابو کرنے کی ترکیب کی گئی۔ یہ ترکیب عمومی طور پر پی سی او کے تحت حلف برداری ہوتی تھی تاکہ ایسے ججوں کو اسکرین آؤٹ کیا جاسکے جو ممکنہ طور پر آمر کے خلاف فیصلے دے سکیں۔ اس کے بعد ربڑ اسٹیمپ مقننہ کے ذریعے قوانین منظور کروائے جاتے رہے تاکہ ان آمروں کے کیے دھرے کو آئینی تحفظ حاصل رہے۔
مگر یہ سب گئے دور کی باتیں ہیں۔ اب کے حالات مختلف ہیں۔ جس طرح مقننہ، انتظامیہ اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے بے بہا اثاثوں کے مالک ہیں، بالکل اسی طرح اب عدلیہ سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد پاکستان میں اور پاکستان سے باہر بھی اپنے ذریعہ آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثوں کے مالک ہیں۔ معاملات یہاں تک رہتے توشاید تب بھی اتنا نقصان نہیں ہوتا مگر معاملات اس سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ اس پر گفتگو آئندہ کالم میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ