نیت باندھنا

120

 

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی

ہم نے جب سے اس دنیا کا مشاہدہ کرنا شروع کیا ہے۔ تو پہلا مشاہدہ یہی ہوا کہ جب بھی کوئی اہم کا م شروع کرنا ہو تو پہلے اس کام کے کرنے کی نیت کی جاتی ہے۔ اور ظاہر ہے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے زیادہ اہم کام کون سا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ہم نے اپنے گھر کے ہر بڑے کو دیکھا کہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے نیت کرتے۔ اسی طرح والد صاحب کام پر جاتے تو پہلے تیاری کرتے۔ ہم اسکول جاتے تو پہلے اسکول کا یونیفارم پہنتے تھے۔ فوجی جب ڈرل کے لیے نکلتے ہیں تو پہلے اپنا یونیفارم پہنتے ہیں۔ لیکن کتنا عجیب لگے گا کہ جب کوئی دفتر جانے کے لیے تیار ہوجائے اور پھر دفتر نہ جائے۔ بلکہ سوجائے۔ کوئی بچہ اسکول کے لیے یونیفارم پہن لے اور پھر اسکول نہ جائے۔ اور لوڈو کھیلنا شروع کردے۔ ہمارے وزیر اعظم نہیں تھے تو کہتے تھے کہ میں کرپشن ختم کردوں گا۔ میں تعلیم میں ایسی اصلاحات لاؤں گا کہ عوام کی تعلیمی ترقی اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ غربت کا خاتمہ کروں گا۔ کچرا اٹھانے کے لیے باقاعدہ مشینری اور دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ تمام کے تمام حکومت کے ایسے فرائض ہیں۔ جن کے لیے جناب وزیراعظم کو اب تک نیت باندھ لینی چاہیے تھی۔ یونیفارم پہن لینا چاہیے تھا۔ مختلف بڑے بڑے امور کی انجام دہی کے لیے تحقیقاتی ٹیمیں کی تشکیل دی جانی چاہیے تھیں۔ یہ ٹیمیں جلد از جلد تحقیقات کرتیں، تجاویز مرتب کرتیں اور مہینے دو مہینے بعد وزیراعظم کو عملی اقدامات کے لیے پیش کرتیں۔ کم از کم اس طرح نظر تو آتا کہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن ہماری حکومت تو دوسرے ایسے اقدامات میں لگ گئی جیسے کوئی یونیفارم بدل کر کام پر جانے کے بجائے کوئی دوسرا ہی کام کرنے لگے۔
منی بجٹ پیش کرکے ہر چیز کی قیمت بڑھا دی گئی۔ گیس کے نرخ بڑھا دیے گئے۔ ڈیم کے لیے عوام کے سامنے کشکول پھیلادیا گیا۔ بھینسیں بیچ دی گئیں۔ کاروں کی نیلامی کا سلسلہ اٹھا دیا گیا۔ ہیلی کاپٹر کے سفر کو کم خرچ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور اب بات پہنچی تیرے آشیانے تک یعنی پٹرول پمپوں کے ٹوائلٹ تک۔ یہاں رونگ ڈرائیونگ پر ایف آئی آر تو مقامی پولیس کاٹ سکتی ہے، ہیلمٹ کے لیے غریب عوام کو نشانہ تو بنا سکتی ہے، ناکے لگا لگا کر غریب بے روزگاروں سے بلیک میلنگ تو کرسکتی ہے۔ تو پٹرول پمپوں کے ٹوائلٹ بھی اسی پولیس سے چیک کرائے جاسکتے ہیں۔ اتنی بڑی خوش خبری کا اعلان محترم وزیر اعظم کو بہ نفس نفیس کرنے میں کون سی مصلحت کار فرما تھی۔ چوں می دانم بہ لرزم۔ آج پورا کراچی کچرا کنڈی بنا ہوا ہے۔ کاش وزیراعظم کسی ایسے پروگرام یا منصوبے کا اعلان کرتے کہ کراچی کے عوام کو اس سے نجات مل سکتی۔ یہ کچرا کنڈیاں جو تقریباً ہر فرلانگ دو فرلانگ پر واقع ہیں اور اہل محلہ کی اپنی صوابدید اور آسانی کے نظریے کے تحت جہاں دل چاہے وہاں بنادو کی بنیا پر بنی ہوتی ہیں۔ اسکول کے دروازے کے ساتھ، مسجد کے دروازے کے ساتھ، بس اسٹاپ کے ساتھ۔ محترم وزیراعظم اگر اعلان ہی کرنا تھا تو ان کچرا کنڈیوں کی صفائی اور صحیح جگہ پر تعمیر کا اعلان کرتے۔ اس مقصد کے لیے ایک ٹیم بناتے جو اس کے انتظامات کے لیے جوابدہ ہوتی۔
محترم وزیراعظم یہ قوم سیاسی لیڈروں، حکومتی اداروں، سیاسی تنظیموں، مہنگائی، غربت، تعلیمی اخراجات، شہری بد انتظامی اور بے روزگاری کے پاٹوں میں پسی ہوئی قوم ہے۔ خدارا اس قوم پر رحم کریں۔ اور ایسے اقدامات اور اعلانات کریں کہ قوم کو مایوسی نہ ہو یا قوم کا سر شرم سے جھک نہ جائے کہ ہم نے آپ پر جو اعتماد کیا ہے، تبدیلی کی جو راہ آپ کی رہنمائی میں اختیار کی ہے۔ آپ پر جو بھروسا کرکے آپ کو ووٹ دیا ہے۔ خدارا ہمیں شرمندہ نہ ہونے دیجیے گا۔ آپ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضے نہیں لیں گے۔ اب آپ خود ہی قرضے لینے کی بات کررہے ہیں۔ اور اب حد تو یہ ہوگئی ہے کہ خود چیف جسٹس صاحب نے کہا ہے کہ وزیر اعظم خود وقت نکالیں اور کچی آبادیوں کا دورہ کریں۔ پچاس لاکھ گھر صرف اعلانات سے نہیں بنیں گے۔ میری محترم وزیراعظم سے یہ گزارش کہ خدا کے لیے نیت تو باندھیں۔ تحقیقاتی ٹیمیں تو تشکیل دیں۔ جو مختلف امور اور شعبہ ہائے زندگی مثلاً تعلیم، صحت و صفائی (جن میں حکومتی سطح پر نئے اسپتالوں کا قیام، فری ڈسپنسریوں کا قیام) جن میں وزیراعظم کی سوچ کے مطابق ٹوائلٹ بھی بنے ہوئے ہوں اور وہ ڈسپنسری انتظامیہ کے ماتحت کام کریں۔ اس طرح ڈاکٹروں کے لیے روزگار کا انتظام ہو جائے اور مظلوم عوام کی دعائیں بھی آپ کو حاصل ہوں گی۔ محترم وزیراعظم وقت کم ہے اور بہت کم ہے لوگ تیس تیس سال حکومت کرکے چلے گئے جانا سب کو ہے۔ لیکن یہ لوگ دنیا اور آخرت کی رسوائیاں سمیٹ کر چلے گئے۔ آپ کو اللہ نے موقع دیا ہے۔ آپ کچھ ایسے کام کرجائیں جو دنیا اور آخرت کی سرخروئی کا سبب بن جائیں۔ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے۔ آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔ لیکن ہر عظیم کام سے پہلے نیت باندھنا ضروری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ