قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

82

 

ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں ۔ اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسندہی نہ تھا، اس لیے اس نے انہیں سست کر دیا اور کہہ دیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ ۔ اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اْس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اْن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔ (سورۃ التوبہ: 45تا47)

ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے۔ دعا (اللہم اصلح لی دینی الذی ہو عصمۃ امری واصلح لی دنیای التی فیہا معاشی واصلح لی آخرتی التی فیہا معادی وا جعل الحیوۃ زیادۃ لی فی کل خیر واجعل الموت راحۃ لی من کل شر)۔ اے اللہ! درست کر میرے دین کو جو میرے امور کا محافظ ہے (یعنی دین کی وجہ سے جان، مال، اور آبرو کی حفاظت ہوتی ہے اور آخرت کے عذاب سے نجات ملتی ہے) درست کر میری آخرت کو (جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے) میری زندگی کو سبب بنا ہر نیکی میں زیادتی کا (یعنی طویل عمر عطا فرما تاکہ بہت سی نیکیاں کروں) اور میرے لیے موت کو ہر برائی سے راحت اور آرام کا سبب بنا۔ (مسلم)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.