چین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پرامریکی کانگریس کو تشویش

43

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی کانگریس نے چین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پرگہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے چین میں ایغور نسل کے مسلمان باشندوں کے ساتھ حکومت غیرانسانی برتاؤ کررہی ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں انسانی حقوق کے حالات بری طرح خراب ہیں۔ چین سے متعلق کانگریس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران چین میں اقتصادی ترقی کے باوجود بنیادی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ چینی حکام اور سیکورٹی ادارے ایغور مسلمانوں کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کانگریس کی رپورٹ میں چین میں ایغور مسلمانوں کے لیے قائم کردہ نام نہاد کیمپوں کے اندر کی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب سے شی جن پنگ کیمونسٹ پارٹی کے صدر بنے ہیں چین میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کمیٹی کے رکن مارک روبیو اور روبیو اسمتھ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تشویش کن صورت ہال ان 10 لاکھ ایغور مسلمانوں کی ہے جنہیں اصلاحی کیمپوں کی آڑ میں غیرانسانی ماحول میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چین یغور مسلمانوں کو رکھنے کے لیے قائم کردہ کیمپ انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی کیمونسٹ پارٹی کی جانب سے لاکھوں مسلمانوں کو فوجی کیمپوں میں رکھنا مقامی سطح پر سیاسی طاقت کو بڑھانا اور حکومت پراپنا کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔ اس طرح کے وحشیانہ حربے انسانی حقوق، مذہبی آزادیوں اوربنیادی انسانی عقاید کے خلاف ہیں۔ رپورٹ میں ہانگ کانگ میں چین کی اجاراہ داری کے قیام کی کوشش کی بھی مذمت کی گئی اور کہا ہے کہ ہانگ کانگ ایک خود مختارعلاقہ ہے اور چین کو اس کے داخلی امورمیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ