جرمنی کی تینوں حکمراں جماعتوں کی مقبولیت میں نمایاں کمی

43

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی کے حکمران اتحاد میں شامل تینوں سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں غیر معمولی کمی سامنے آئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک تازہ عوامی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ باویریا میں صوبائی انتخابات سے چند روز قبل جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی قیادت میں جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل تینوں سیاسی جماعتوں کی ملک گیر عوامی مقبولیت میں واضح کمی ہوئی ہے۔ جرمنی میں ان دنوں تمام سیاستدانوں اور تقریباً سبھی باشندوں کی نظریں جنوبی صوبے باویریا پر لگی ہوئی ہیں، جہاں 14 اکتوبر کو ریاستی پارلیمان کے الیکشن ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج سیاسی طور پر کسی بھی دوسرے معاملے کی نسبت جرمنی میں قدامت پسندوں اور سوشل ڈیموکریٹس پر مشتمل وسیع تر مخلوط حکومت کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں چانسلر مرکل کی قدامت پسند جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو)، اس پارٹی کی ہم خیال باویریا کی سیاسی جماعت کرسچین سوشل یونین (سی ایس یو) اور سوشل ڈیموکریٹس کی پارٹی ایس پی ڈی ایک دوسرے کی اتحادی ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کی طرف سے حال ہی میں کرائے گئے ایک تازہ عوامی جائزے کے نتائج کے مطابق مرکل حکومت اور اس میں شامل جماعتوں کے لیے عوامی تائید و حمایت مزید کم ہو گئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان تینوں سیاسی جماعتوں کو اس وقت مقابلتا اتنے کم جرمن ووٹروں کی حمایت حاصل ہے کہ ان اعداد شمار کو ان تمام پارٹیوں کی تاریخ کی خراب ترین صورت حال کہا جا سکتا ہے۔ جائزے کے مطابق آج اگر جرمنی میں وفاقی پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں تو مرکل کی پارٹی سی ڈی یو اور وفاقی وزیر داخلہ زیہوفر کی قیادت میں جنوبی جرمنی کی علاقائی جماعت سی ایس یو جو مشترکہ طور پر قدامت پسند یونین جماعتیں کہلاتی ہیں ممکنہ طور پر تاریخی ناکامی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس جائزے کے نتائج کے مطابق صرف یونین جماعتوں ہی کے لیے نہیں بلکہ سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت ایس پی ڈی کو حاصل عوامی تائید میں بھی زبردست کمی ہوئی ہے۔ سی ڈی یو اور ایس پی ڈی برسوں تک جرمنی کی بہت مضبوط اور سب سے بڑی سیاسی جماعتیں تھیں لیکن اب ان کی طاقت کمزور پڑ چکی ہے اور ماحول پسندوں کی گرین پارٹی دوبارہ زیادہ مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی صوبائی پارلیمانی اداروں کے علاوہ پہلی بار وفاقی پارلیمان میں بھی پہنچنے والی اسلام مخالف اور مہاجرین کی آمد پر شدید تنقید کرنے والی انتہائی دائیں باز وکی عوامیت پسند جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی بھی اس تبدیلی کی بہت بڑی وجہ ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں کی طاقت میں زبردست کمی آئی ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کی طرف سے ہر ماہ ’ڈوئچ لینڈ ٹرینڈ‘ کے نام سے کرائے جانے والے اس عوامی جائزے کو حکومت اور سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق اس وقت سی ڈی یو اور سی ایس یو کو ووٹروں کی اتنی کم تائید حاصل ہے کہ اگر فوری طور پر عام الیکشن کرائے جائیں، تو یہ دونوں جماعتیں مل کر بھی 30 فیصد سے کچھ ہی زیادہ ووٹ حاصل کر سکیں گی۔ ان کی یہ مقبولیت ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہے۔ اس کے برعکس ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کی مقبولیت دوبارہ واضح اضافے کے بعد اب 17 فیصد ہو چکی ہے جب کہ انتہائی دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت اے ایف ڈی کو 16 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہو گی۔ اس سروے سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو بوکھلا دینے والے نتائج حاصل ہوئے اور وہ صرف 15 فیصد ووٹروں کی تائید کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔ سروے میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت ’دی لِنکے ‘ اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) دونوں کو ہی دس دس فیصد رائے دہندگان کی تائید حاصل ہوئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ