ملائیشیا میں گرفتار 11 ایغور باشندوں کو رہا کردیا گیا

55

کوالالمپور (انٹرنیشنل ڈیسک) ملائیشیا کی عدالت نے مہاجرین کے ایک حراستی مرکز سے 11 ایغور شہریوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ ایغور افراد کے وکیل نے بتایا کہ رہائی کے بعد تمام افرادترکی کے لیے روانہ ہو گئے۔ استغاثہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان پر تمام الزامات ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق چین نے انہیں اپنا شہری قرار دے کر واپسی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالتی فیصلے کے بعد کوالالمپور حکومت نے بیجنگ کی درخواست کو نظرانداز کر دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں تھائی لینڈ کی ایک جیل سے ایغور نسل کے 25 شہری فرار ہوئے تھے اور ان میں سے 11کو غیر قانونی طریقے سے ملائیشیا کی سرحد عبور کرنے پر گرفتار کرلیاگیا تھا۔
ترکی امریکا کشیدگی کا باعث بننے والے پادری کو رہا کردیا گیا
انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کی ایک عدالت نے امریکی پادری اینڈریو برونسن کو رہا کردیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سخت کشیدگی کا سبب بننے والے اس پادری کو ترکی میں 2 سال قبل ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ترک عدالت نے اینڈریو برونسن کو جمعہ کے روز 3 سال قید کی سزا سنائی، تاہم جولائی 2016ء سے گرفتار پادری کو سوا 2 سال قید میں گزارنے اور دوران حراست نیک چلن کے باعث رہا کردیاگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کے بعد اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ رہائی پانے والا امریکی پادری جلد وطن لوٹ آئے گا۔ واضح رہے کہ ترک عدالت نے نہ صرف رہایش گاہ پر نظر بند امریکی پادری کو آزادانہ چلنے پھرنے کی اجازت دے دی ہے، بلکہ اس کے بیرون ملک سفر سے بھی پابندی اٹھالی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ پادری کی رہائی پر وائٹ ہاؤس اور انقرہ حکومت کے درمیان ایک خفیہ ڈیل طے پا گئی ہے، جس کے تحت ترک استغاثہ بعض الزامات سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے بتایا تھا کہ واشنگٹن اور انقرہ ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت برونسن کے مقدمے کی آیندہ پیشی کے دوران اس پر عائد الزامات کو ختم کر دیا جائے گا اور امریکی پادری کی رہائی عمل میں آ جائے گی۔ دوسری جانب ترک حکام نے اس حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ڈیل کی افواہ کو رد کردیاتھا۔ اس کے علاوہ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوورٹ نے بھی ان خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ انہیں رہائی کے حوالے سے کسی سمجھوتے کا علم نہیں ہے۔ حالاں کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی قومی سلامتی سے متعلق یہودی ادارے کے سالانہ عشائیے میں کہا تھا کہ جمعہ کے روز عدالتی سماعت میں برونسن کی رہائی ایک مثبت اور اہم اقدام ہو گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.