واشنگٹن: تنظیم آزادئ فلسطین کے دفاتر مکمل طور پر سیل

119

واشنگٹن/ غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں تنظیم آزادئ فلسطین ’پی ایل او‘ کے دفاتر اور فلسطینی سفارتی مشن کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے 10 اکتوبر کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تک پی ایل او کے دفاتر بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے تنظیم آزادی فلسطین کو مکمل طور امریکا سے بے دخل کردیا گیا ہے۔امریکی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں قائم تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کا عملہ پہلے ہی ملک چھوڑ چکا ہے، تاہم امریکا میں رہنے والے بعض فلسطینی ملازمین دفاتر سے منسلک رہایش گاہوں میں مقیم تھے۔ گزشتہ روز وہ بھی وہاں سے چلے گئے اور عمارتوں پر آویزاں فلسطینی پرچم اتار دیا گیا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے 10 ستمبر کو بتایا گیاتھا کہ حکومت نے تنظیم آزادی فلسطین کے سرکاری دفاتر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کو کانگریس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ یہ اقدام فلسطینیوں کی جانب سے عالمی اداروں میں اسرائیل کے خلاف یکطرف اقدامات کے رد عمل میں کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت نے امریکا میں تنظیم آزادی فلسطین کے تمام بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے تھے، اور فلسطینی سفارتی عملے اور دیگر عہدے داروں کو فوری طورپر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ دوسری جانب غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کا حق واپسی مارچ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ جمعہ کے روز اسرائیل سے ملحق سرحد پر کئی مقامات پر ہزاروں فلسطینیوں نے جمع ہوکر 1948ء کے مقبوضہ علاقوں کی جانب مارچ کیا اور وہاں پہنچنے کی کوشش کی۔ اس دوران صہیونی فوج کی فائرنگ سے مزید 6فلسطینی شہید اور 120 سے زائد زخمی ہوگئے۔ درجنوں زخمیوں کو گولیاں لگیں، جب کہ دیگر آنسوگیس سے متاثر ہوئے۔ زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویش ناک ہے۔ادھر اسرائیلی وزیر دفاع ایوی گیڈور لائبرمین نے سرحد پر کشیدگی کا بہانا بناکر محصور فلسطینیوں کو سزا دینے کے لیے غزہ کے لیے ایندھن کی ترسیل بند کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ