صحافی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا‘ ترکی کے پاس شواہد موجود

74

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک حکومت کے پاس ایسی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگز ثبوت کے طور پر موجود ہیں، جن کی بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشق جی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہی قتل کیا گیا ہے۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نامعلوم ترک اور امریکی حکام کے توسط سے لکھا ہے کہ جمال خاشق جی اپنی شادی کے کاغذات کے سلسلے جب دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے پہنچے تو پہلے ان سے پوچھ گچھ کی گئی، ان پر تشدد کیا گیا اور پھر انہیں قتل کر دیا گیا۔ جب کہ سی این این کے مطابق یہ تفصیلات ایسے شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہیں، جو خود بھی لاپتا صحافی کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور انہیں ترکی کے اعلیٰ تفتیشی حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی تھی۔ بریفنگ کے دوران وہ صحافی کے قتل کی آڈیو اور وڈیو شواہد دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انقرہ حکومت کا الزام ہے کہ سعودی عرب خاشق جی کو قتل کرنے اور قونصل خانے سے ان کی لاش غائب کرنے میں ملوث ہے۔ بدھ کے روز ترک ذرائع ابلاغ میں نگرانی کے لیے نصب پولیس کے کیمروں سے بنی ایک وڈیو بھی جار ی کی گئی، جس میں ایک مبینہ سعودی قاتل ٹیم کو دکھایا گیا ہے۔ وڈیو میں چند افراد کو ایک ہوٹل سے نکلتے ہوئے اور خاشق جی کو سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وڈیو میں خاشق جی کی منگیتر کو بھی پریشان حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔تاہم اس وڈیو میں قونصل خانے کے اندرونی مناظر شامل نہیں ہیں۔ ترکی نے اس واقعے کے بعد سعودی سفارت خانے کی تلاشی کا مطالبہ کیا تھا۔ ریاض حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود ابھی تک تلاشی کا یہ عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔ امریکی اور ترک حکام کو شک ہے کہ ریاض حکومت نے صحافی جمال خاشق جی کو اغوا کر کے زندہ حالت میں سعودی عرب واپس لانے کے لیے 15 رکنی ٹیم کو روانہ کیا تھا۔ سعودی حکام ان الزامات کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ خاشق جی شاہی خاندان اور حکومت کے انتہائی قریب ہوا کرتے تھے، تاہم بعد میں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان السعود کے سخت ناقد بن گئے تھے، جس کے باعث انہیں جلا وطن بھی ہونا پڑا تھا۔ترک سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق جمال خاشق جی کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے سعودی عرب کی ٹیم انقرہ پہنچ گئی ہے اور توقع ہے کہ رواں ہفتے دونوں ممالک کی تحقیقاتی ٹیمیں ملاقات کریں گی اور خاشق جی کی گمشدگی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ خاشق جی کا پتا چلانے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ