عمران خان کا دور حکومت کسی مارشل لاء سے کم نہیں،سیاسی رہنماء

62

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونا پڑے گا،جمہوریت ہی سب کچھ ہے اس کے سوا کوئی چیز قابل قبول نہیں ہونی چاہیے، سیاستدانوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں انہیں بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا،عمران خان کا دور حکومت بھی کسی مارشل لا سے کم نہیں، کلثوم نواز نے جمہوریت کے لیے اہم کردار ادا کیا۔موجود ہ حکومت میں کسی کی عزت نہیں یہ عمران خان کا مارشل لاء ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ سیاستدان ٹھیک ہوجائیں اور قسم کھائیں کہ اختیارات کے بغیر اقتدار نہیں سنبھالیں گیا۔ انگریزوں کے بوٹ پالش کرنے والوں کی اولادیں آج بھی ہم پر مسلط ہیں،ملک میں آج بھی سول مارشل لاء ہے کبھی ملک میں فوجی مارشل لاء ہوتا ہے کبھی سول، وقت آگیا ہے کہ تمام جماعتیں عہد کریں گی مل کر ساتھ چلیں گی۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کی جانب سے جمعہ کو آرٹس کو نسل میں 12اکتوبر 1999ء کے حوالے سے یوم سیاہ اور بیگم کلثوم نواز کی جدوجہدپر منعقدہ سیمینار سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو، پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید، پائلر کے سربراہ کرامت علی، رکن قومی اسمبلی کھیل داس کوہستانی، جمعیت علماء اسلام ف کے راشد سومرو اورمسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ نے خطاب کیا ۔ جبکہ تقریب میں راشد ربانی ، وقار مہدی، علی اکبر گجر، نہال ہاشمی، مولانا احترام الحق تھانوی، فیصل مغل، اور دیگر بھی موجود تھے ، تقریب کے آخر میں مولانا احترام الحق تھانوی نے بیگم کلثوم نواز کے لیے دعائے مغفرت کروائی، نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان کی جمہوری حکومت ہے ان کا مارشل لاء ایوب خان، یحیٰی خان، ضیاء الحق، اور پرویز مشرف سے زیادہ سخت ہے، اب ایسے ایسے حربے اختیار کیے جارہے ہیں جو اس سے پہلے کسی حکومت میں اختیار نہیں کیے گئے تھے۔ میڈیا پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں،انہوں نے کہا کہ میں ملک کی تاریخ میں چار خواتین نے جمہوریت کے لیے اہم کردار ادا کیا ان میں محترمہ فاطمہ جناح، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹواور، بیگم کلثوم نواز شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ پرانے پاکستان کی تاریخ کو 70سال ہوچکے ہیں نئے پاکستان کی پتا نہیں کب تک کی تاریخ ہو، انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہی سب کے لیے بہت اہم اس کے علاوہ کوئی بھی چیز قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر سیاستدان الگ الگ فیصلے کریں گے تو یہ تقسیم ہوں گے انہیں چاہیے کہ ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوجائیں، عمران خان کو میں کیسے سیاسی شخصیت کہوں انہوں نے تو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو ووٹ دیا تھا اور ان کے حق میں بیانات دیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اب غیر جمہوری قوتوں کا مخالف بن گیا ہے۔اب جسطرح 12اکتوبر کا دن منایا جارہا ہے اس ہی طرح 5جولائی کا دن بھی یوم سیاہ کے طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مناناجانا چاہیے۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ سیاستدانوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں انہیں بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے، پرویزمشرف کو آئینی حیثیت اس وقت کی پارلیمنٹ نے دی تھی، آئین میں فوج ، جوڈیشری کا اپنا اپنا رول موجود ہے تمام اداروں کو آئین میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ 25جولائی کے بعد ملک میں مارشل لاء لگ گیا تھا۔ موجود ہ حکومت میں کسی کی عزت نہیں یہ عمران خان کا مارشل لاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ سیاستدان ٹھیک ہوجائیں اور قسم کھائیں کہ اختیارات کے بغیر اقتدار نہیں سنبھالیں گے۔ پائلر کے سربراہ کرامت علی نے کہا کہ جسے مارشل لاء کہا جاتا ہے یہ ذلت ، اور غلامی کا نام ہے اسے روکنا ضروری ہے۔رکن قومی اسمبلی کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ مشرف کی روح اب بھی ملک میں بھٹک رہی ہے1999 اور 2018میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آرہا ہے۔ مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ نے کہا کہ انگریزوں کے بوٹ پالش کرنے والوں کی اولادیں آج بھی ہم پر مسلط ہیں،ملک میں آج بھی سول مارشل لاء ہے کبھی ملک میں فوجی مارشل لاء ہوتا ہے کبھی سول، وقت آگیا ہے کہ تمام جماعتیں عہد کریں گی کہ مل کر ساتھ چلیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ