1997 سے قبل کی تمام کچی آبادیوں کو مستقل کریں گے،وزیر بلدیات

76

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) وزیر بلدیات و کچی آبادی سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں کچی آبادیوں کو ریگولائیز کرنے اور ان آبادیوں میں رہنے والے کو تمام افرادکو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمارا فرض ہے اور اس سلسلے میں سندھ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔ صوبے بھر میں 1997 ء سے قبل کی تمام کچی آبادیوں کو ریگولائیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت صوبے بھر میں جاری منصوبوں اور مزید نئے منصوبوں کے حوالے سے پیش رفت کو تیز کیا جائے۔ ہماری اولین ترجیح ہے کہ عوام کو تمام سہولیات کی فراہمی اور انہیں صاف، ستھری اور صحتمندانہ تفریحی سہولیات زیادہ سے زیادہ فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ کچی آبادی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ محکموں کے دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ان خیالات کااظہا رانہوں نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کچی آبادی کے ڈی جی ڈاکٹر اقبال سعید خان نے صوبائی وزیر کو محکمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ صوبے بھر میں 26 ہزار 458 ایکڑ پر 1414 کچی آبادیاں 1997 ء کے سروے تک موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سب سے زیادہ کچی آبادیاں کراچی میں ہیں جن کی تعداد 575 ہے جبکہ حیدرآباد میں 408، میر پورخاص میں84، سکھر میں 91، لاڑکانہ میں 112 اور شہید بینظیر آباد میں ان کی تعداد 144 ہے۔ ان میں سے 1004 نوٹیفائیڈ جبکہ 410 غیر نوٹائیفائیڈ ہیں۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد 1997 ء تک کی کچی آبادیوں کو ریگولائیز کرنے کے لیے سروے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور کئی کچی آبادیوں کو ریگولائیز بھی کردیا گیا ہے۔ جبکہ دیگر پر کام جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ہدایات دی کہ صوبے بھر کی تمام کچی آبادیوں کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا جلد سے جلد مکمل کیا جائے اور ان کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور محکمے کے افسران اس سلسلے میں اپنی روزانہ کی کارکردگی رپورٹ سیکرٹری کچی آبادی اور سیکرٹری بلدیات جو کہ اس کی گورننگ باڈی کے ممبران ہیں، ان کے پاس جمع کرائی جائے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (سندھ یونٹ) کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی پروجیکٹ ڈائریکٹر خالد شیخ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو محکمے کے تحت جاری منصوبوں پر مکمل پریفنگ دی گئی جبکہ اس موقع پر صوبائی وزیر کو مزید منصوبوں پر جاری کام کے حوالے سے تفصیلی آگاہی بھی دی گئی۔ صوبائی وزیر کو کراچی میں ایک تھیم پارک، ملیر ایکسپریس وے۔ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی ازسر نو ڈیزائنگ اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کے حوالے سے اب تک کیے جانے والے کام کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صوبے کے عوام کو تمام سہولیات کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فراہم کریں اور اس سلسلے میں ہمیں جہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جو منصوبے مکمل کیے جاسکتے ہیں ان پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح یہی ہے کہ ہم سندھ حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کے زیر انتظام منصوبوں کو مکمل کریں تاہم جہاں ہمیں مالی اور دیگر معاملات میں پبلک پارٹنرز کی ضرورت ہو اس میں ہم ان کو شامل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی صوبے میں متعدد منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کیے گئے ہیں اور اس کے مثبت اور فوری اثرات عوام تک منتقل ہوئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ مزید ایسے منصوبوں کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کیا جائے، جس سے اس کے مثبت اور براہ راست فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ