مقبوضہ کشمیر ،منان وانی کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت ،وادی میں مکمل ہڑتال ،مظاہرے

179
سری نگر:منان وانی شہید کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہیں‘ چھوٹی تصویر میں حریت پسند نوجوان کا آخری دیدار کیا جارہا ہے
سری نگر:منان وانی شہید کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہیں‘ چھوٹی تصویر میں حریت پسند نوجوان کا آخری دیدار کیا جارہا ہے

سرینگر/اتر پردیش (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھو ں گزشتہ روز پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی اور ان کے ساتھی عاشق حسین زرگر کی شہادت پر جمعہ کو مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتا ل کی گئی اور زبردست بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے جبکہ شہداء کے نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور وادی بھری میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈاکٹر وانی اور ان کے ساتھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمدیاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی ۔ دکانیں ، کاروباری مراکز اور پیٹرول پمپ بند
رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت معطل تھی۔ قابض انتظامیہ نے نوجوانوں کی شہادت پر احتجاجی مظاہرے روکنے کے لیے سرینگر، لولاب اور کپواڑہ کے علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کر دی تھیں جبکہ بھارتی فوج نے شہداء کے جنازے کی کوریج کے لیے صحافیوں کو کوریج سے روک دیا ۔ پابندیوں کی وجہ سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاسکی۔ انتظامیہ نے تقریباً تمام حریت رہنماؤں کو زیر حراست رکھا۔ پابندیوں اور بڑی تعداد میں بھارتی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود ہزاروں لوگوں نے سرینگر ، بڈگام، بیروہ، گاندر بل ، پامپور ، پلوامہ، کولگام، اسلام آباد، شوپیاں، سوگام،لولاب، ٹکی پورہ، ہندواڑہ،کپواڑہ، بانڈی پورہ اور دیگر علاقوں میں بھارت مخالف مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے آزادی اورپاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ مختلف مقامات پر لوگوں نے ڈاکٹر منان وانی اور عاشق حسین زرگر کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ بھارتی پولیس نے سرینگر، کپواڑہ، شوپیاں، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیاجس کے بعد مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کی کارروائیوں میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ ضلع شوپیاں کے علاقے نادی گام میں بھی لوگوں نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین کی قابض اہلکاروں کے ساتھ سخت جھڑپیں ہوئیں۔ مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر میں ایک بیان میں شہید ڈاکٹرمنان وانی اور عاشق حسین زرگر کو زبردست خراج عقید ت پیش کیا ہے ۔ حریت قائدین نے کہاکہ منان وانی جیسے ابھرتے ہوئے نوجوان پروفیسر ، انجینئر،دانشور اور ادیب اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کی قیمت ادا کر رہے ہیں ۔ دیگر حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے بھی ڈاکٹر منان وانی اور عاشق حسین زرگر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ادھرسرینگر ، ترال ، اونتی پورہ ، مٹن ، پہلگام ، عشمقام ، سیر ہمدان ، حاجن اور اوڑی میں کل نام نہاد انتخابات کے تیسرے مرحلے کے موقع پر مکمل ہڑتال کی جائے گی ۔ ہڑتال کا مقصد بھارت کو یہ پیغام دینا ہے کہ کشمیریوں نے انتخابی ڈھونگ مسترد کردیا ہے اور وہ صرف اپنا حق خودارادیت چاہتے ہیں۔قابض انتظامیہ نے تحریک حریت جموں وکشمیر کے کارکن شیخ سرتاج کو کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے اسلام آباد قصبے سے جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیا ہے ۔دوسری جانب بھارتی ریاست اتر پردیشن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹرمنان وانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی کوشش کرنے والے 3 کشمیری طلبہ کو معطل کردیا ہے ۔بھارتی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 3 کشمیری طلبہ کو یونیورسٹی کے ڈسپلن اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر معطل کیاگیا ہے جبکہ ان کی حمایت کرنے والے 4طلبہ کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ