سپریم جوڈیشل کونسل کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو کلین چٹ،شوکت صدیقی کا برطرفی چیلنج کرنیکا فیصلہ

268

اسلام آباد (صباح نیوز+آن لائن)سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد انور کاسی کے خلاف چاروں درخواستیں خارج کر دیں اور قرار دیا ہے کہ جسٹس محمد انور کاسی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس نہیں بنتا۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد انور کاسی کے خلاف 4 درخواستیں دائر کی گئیں۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں 11 اکتوبر کو جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں جسٹس انور کاسی کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا۔اعلامیے کے مطابق تفصیلی مشاورت کے بعد کونسل نے فیصلہ کیا کہ جسٹس انور کاسی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس نہیں بنتا، سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس انور کاسی کے خلاف چاروں درخواستیں خارج کر دیں۔ علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسٹس شوکت صدیقی کو گزشتہ روز عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے وکلاسے مشاورت کی ہے جس کے بعد پیر تک برطرفی کا نوٹیفکیشن عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جائے گا اور وزارت قانون کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جسے انہوں نے منظور کرلیا ،جس کے بعد جسٹس شوکت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے برطرفی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی خفیہ ایجنسی عدالتی امور میں مداخلت کررہی ہے اور خوف و جبر کی فضا کی ذمے دار عدلیہ بھی ہے جبکہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔قبل ازیں جمعے کو ہائی کورٹس کی ذیلی عدالتوں کے سپر وائزری کردار سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ججز کا احتساب شروع ہوچکا ہے ، جو جج کم مقدمات کے فیصلے کرے گا اس کے خلاف آرٹیکل 209کے تحت کارروائی ہوگی۔دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل نے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،3 9 صفحات پر مشتمل تحریری وجوہات جسٹس آصف سعید نے تحریر کیں ۔جسٹس آصف سعید کی طرف سے لکھی گئی وجوہات میں درج کیا گیا ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف آنے والی شکایات درست ثابت ہوئیں ۔جسٹس شوکت صدیقی کو آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ملازمت سے خارج کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔شوکت عزیز صدیقی نے اپنے جواب میں سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا کہ میرے خلاف شکایات کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔بار کو اعتماد میں لینا میری ذمے داری تھی۔کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کا جواب قانون کے مطابق نہ ہونے پر مسترد کرتے ہوئے جسٹس شوکت کی جانب سے اداروں پر الزام تراشی ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایک جج کو دیگر ججز اور ان کے فیصلوں سے متعلق محتاط ریمارکس دینے چاہئیں، شوکت صدیقی نے سابق چیف جسٹس صاحبان اور ان کے فیصلوں سے متعلق جو کہا وہ ان کی ذاتی رائے ہے،اس طرح سے تضحیک آمیز انداز میں شوکت صدیقی کو پبلک فورم پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی،شوکت صدیقی اپنے تحریری جواب میں الزامات کو ثابت کرنے کے لیے مواد دینے میں ناکام رہے،ملک کے سیاسی اور آئینی امور سے متعلق عدالتی فیصلوں پر رائے زنی کرنا جج کے لیے شجر ممنوع ہے،مردہ یا زندہ ججوں سے متعلق تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال جج کے شایان شان نہیں، شوکت صدیقی نے ابتدائی جواب میں بھی تفصیل فراہم نہیں کی لیکن بعد میں بریگیڈیئر عرفان رامے اور میجر جنرل فیض حمید کا نام لیا،شوکت صدیقی نے کہا کہ بریگیڈیئر عرفان رامے اور میجر فیض حمید نے چیمبر میں ملاقات کی،شوکت صدیقی نے جواب میں فیض آباددھرنا، بول ایگزکٹ گروپ کے مقدمات میں کچھ افراد کے اثر انداز ہونے کا الزام لگایا،جس کے ثبوت پیش کرنے میں وہ ناکام رہے،ایسا جج جو ایجنسیوں کی طاقت سے خوف زدہ ہو تو اس پہلو سے سوالات اٹھتے ہیں، کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کی ایجنسیوں کے افسران سے ملاقات پر5 مختلف سوالات اٹھا ئے ہیں جن میں شوکت صدیقی کو اپنی رہائش گاہ پر فوجی افسران سے ملنے،فوجی افسران کو عدالتی امور پر بات کرنے کی اجازت دینے، فوجی افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنے،معاملے سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان کو اعتماد میں نہ لینے سے متعلق سوال اٹھائے گئے ۔جسٹس آصف سعیدنے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی معزولی کی وجوہات میں تحریر کیا کہ شوکت صدیقی کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے متعلق معلومات آئی ایس آئی نے دیں،شوکت صدیقی کو اس طرح کی معلومات پر انحصار کرنے میں محتاط رہنا چاہیے تھا،یہ معلومات غیر تصدیق شدہ تھیں،کونسل نے شوکت صدیقی کے عوام میں جانے کے فیصلے کو ان کی معزولی کی وجوہات قرار دیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ