کراچی میں زہریلی سبزیوں کی فروخت عروج پر، مہلک امراض پھیلنے لگیں

207

کراچی کے مضافاتی علاقوں میں زہریلے پانی سے سبزیاں کاشت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ملیر ندی کے ارد گرد 600 ایکڑ سبزیوں کے کھیت فیکٹریوں کے فضلے سے سیراب کی جاتی ہیں جن کے باعث شہریوں میں کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض پھیلنے لگیں۔

ملیر ندی کے اطراف واقع اراضی پر ٹماٹر، بھنڈی تورئی، بینگن اور دیگر سبزیاں اگائی جارہی ہیں جن کو گٹر کا پانی اور فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا گندا پانی لگایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ 2013 میں بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا جس پر کمشنر کراچی و دیگر حکام نے کارروائی کرتے ہوئے زہریلے پانی سے اگائی جانے والی تمام سبزیاں اکھاڑ دی تھیں۔

اس کے بعد کچھ عرصے تک یہ سلسلہ رک گیا تھا تاہم اس سال دوبارہ یہ گورکھ دھندہ شروع ہوگیا اور اس سبزیوں کی کاشت بھی بڑھ کر 600 ایکڑ تک پہنچ گئی ہیں۔

کراچی کی سبزی منڈٰی میں مضرِ صحت سبزیاں دھڑا دھڑ فروخت ہورہی ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ اِن سبزیوں کی شناخت بھی مشکل ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس قسم کی سبزیاں کھانے سے نفسیاتی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

صدروجیٹیبل مارکیٹ حاجی شاہ کا کہنا ہے کہ منڈی میں ایسی سبزیاں لائی جاتی ہیں اور منڈی میں آنے والی گاڑیوں کی تعداد کاریکارڈ تو مرتب ہوتا ہے لیکن یہ گاڑیاں کہاں سے سبزیاں لیکر آتی ہیں اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ماہرین صحت نے ایسے پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیوں کو انسانی صحت کے لیے مہلک قرار دیا ہے۔

مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر صدف اکبر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمیکل کے پانی سے کاشت کی گئی سبزیاں کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض کا کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس قسم کی سبزیوں میں آرسینک، لیڈ، مرکری کے ذرات ہوتے ہیں اور یہ ذرات انسانی جسم کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email