فیصل رضا عابدی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم

121

عدالت نے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

 اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر کی عدالت میں سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں پولیس نے سابق سینیٹر کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔

جج نے فیصل رضا عابدی کی گرفتاری پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو جو ہورہا ہے وہ نظر کیوں نہیں آرہا، یہ امتیاز سلوک کیوں؟حیرانی ہورہی ہے کہ اسلام آباد پولیس اتنی ذمہ دار کیسے ہوگئی، یہاں تو لوگ درخواست دے دے کر مر جاتے ہیں، کوئی کارروائی نہیں ہوتی، ایک شخص سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد نکل رہا تھا ا سے گرفتار کر لیا۔

معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ میں کسی کی حمایت نہیں کررہا، صرف مساوی نظام کی بات کررہا ہوں، بدقسمتی ہے ہر کسی کو اپنی وردی کی پڑی ہوئی ہے، یہ کیا فلسفہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اشتہاری قرار دے دیا جاتا ہے جو تقریریں بھی کررہے ہوتے ہیں، عمران خان اور طاہر القادری کو بھی اشتہاری قرار دیا گیا، وہ تقریریں کرتے رہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ سیون اے ٹی اے تو مذاق ہوگیا ہے جس پر دل چاہا دہشت گردی کی دفعات لگا دیں۔عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ فیصل رضا عابدی کو پہلے مقدمے میں گرفتار کرنے کی کیا کوشش کی تھی؟اس پر پولیس پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پولیس ٹیم گرفتاری کیلئے کراچی گئی تھی لیکن گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد سابق سینیٹر کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ