سب انسپکٹر پر تشدد نوٹس، وکلاء کے چیف جسٹس کی عدالت میں شیم شیم کے نعرے

125

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ میں استعفی دے دوں گا لیکن انصاف کروں گا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فاضل بینچ نے  وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ اس موقع پر وکلا تنظیموں کے رہنما اوروکلا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے وکلا کی جانب سے شیم سیم کے نعروں پر ریمارکس دیئے کہ میں اس ادارے کا باپ ہوں۔ آپ سے گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھاؤں گا اور انصاف کروں گا، آپ کو شرم آنی چاہیے کہ عدالت میں شیم شیم کے نعرے لگے، شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں۔

صدر لاہور بار نے کہا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے آپ کا سر شرم سے جھکے، شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں، وکلا کے خلاف سازش کی گئی ہے، وکلا پر دہشت گردی دفعات لگا دی گئی ہیں، یہ بات طے ہوئی تھی کہ عدالت کے اندر کی ویڈیو منظر عام پر نہیں آئے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر دہشت گردی دفعات ناجائز تھی تو آپ میرے پاس آتے، ہنگامہ کرکے مجھے دبایا نہیں جاسکتا، اگر کوئی مجرم پایا گیا تو رعایت نہیں برتیں گے، میں استعفی دے دوں گا لیکن انصاف کروں گا۔

سیکرٹری لاہور بار نے کہا کہ آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ دھرنا دیں میں باہر آکر دیکھتا ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ