انتخابات میں دھاندلی کا الزام، ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، احتساب اور کرپشن کیخلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں، ترجمان پاک فوج

100

فوج جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ احتساب اور کرپشن کے خلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں جب کہ وقت بتائے گا کہ حالیہ الیکشن تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن و استحکام کے لیے 76 ہزار جانیں دی گئی ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاشرے کے ہر طبقے نے حصہ لیا، (ن) لیگ کی حکومت نیعسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دی اور مکمل تعاون کیا، انہوں نے ہماری ہر ضرورت پر توجہ دی اور سرحد محفوظ بنانے کے لیے رقم دی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 5 سال سے نظام نے بہتر کام کرنا شروع کیا ہے، پہلے 2 سے 3 دھماکے معمول ہوتے تھے لیکن اب پورے ملک بالخصوص کراچی میں جرائم میں کمی آئی ہے، جس کے لئے بیورو کریسی اوردیگر اداروں نے مل کرکام کیا، تاہم مزید بہتری کی ضرورت ہے، بیورو کریسی اورنظام سے متعلق پاکستان مسلم دنیا میں واحد ملک ہے جس نیکامیابی حاصل کی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مغربی میڈیا میں ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرمبنی الزامات لگائے جاتے رہے، انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان سے متعلق مثبت خبروں کو اجاگر نہیں کیا جاتا، فاٹا اصلاحات پرمغربی میڈیا میں ایک بھی بامقصد اسٹوری نہیں دیکھی گئی۔آج کا پاکستان ماضی سے بہتر ہے، ہم اچھے حالات کی جانب گامزن ہیں، پاکستان میں خرابیوں سے زیادہ اچھائیاں ہیں جو دنیا کو بتانا ہے، بطورادارہ پاکستان کا تشخص بلند کرنا ہمار اولین فرض ہے۔

میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ ہماری فوج اورپولیس دہشت گردوں کیخلاف کئی سالوں سے لڑرہی ہے، احتساب اور کرپشن کے خلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں، پاک فوج ملک میں جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے، پاکستان میں آزادی اظہار رائے موجود ہے، حالیہ عام انتخابات انتہائی شفاف اور آزاد تھے، پاکستان کے متعدد حصوں سے ریکارڈ ووٹرز ٹرن آؤٹ رہا، فوج نے ممکن بنایا کہ ہرشخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے، کسی کو نہیں کہا گیا کہ کس کو ووٹ دینا ہے اورکس کو نہیں، تبدیلی کے سال سے متعلق میری ٹویٹ کو غلط معنوں میں لیا گیا، فوج پرالیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے لیکن کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو لے آئے، وقت بتائے گا کہ حالیہ الیکشن تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ فوج 15 سال سے د ہشتگردی کی روک تھام کے لئے کام کررہی ہے، پاک فوج سی پیک کی محافظ ہے، بھارت نے ایک سرجیکل اسٹرائیک کیا تو پاکستان 10 کرے گا، جس ملک کی فوج مضبوط نہ ہو وہ ٹوٹ جاتا ہے، فوج جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے، فوج سب سے منظم ادارہ ہے، پاک فوج کی طرح دیگر اداروں کوبھی مضبوط ہوناچاہیے۔

ضمنی انتخابات سے صرف ایک دن قبل پاک فوج کا بڑا بیان سامنے آگیا، ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، کسی کے پاس ثبوت ہیں تو لے آئے، فوج میں احتساب کا کڑا نظام ہے، تمام اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے، سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی پر ترجیح نہ دی جائے۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ ایک وار کے جواب میں ہم 10 وار کریں گے۔

لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے صحافیوں سے اہم امور پر گفتگو کی، کہتے ہیں کہ پاکستان میں الیکشن صاف و شفاف ہوئے، عوام نے خواہش کے مطابق ووٹ ڈالا، فوج پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو لے آئے، فوج کا یہ ماننا ہے کہ موجودہ انتخابات کے تاریخ کے شفاف ترین الیکشن تھے۔

جولائی 25 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، پاکستان تحریک انصاف نے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی، جس پر بار بار یہ الزامات سامنے آئے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور پی ٹی آئی کو جعلی مینڈیٹ دلایا گیا۔

ترجمان پاک فوج نے کفایت شعاری مہم کی بھی حمایت کردی، کہتے ہیں کہ فوج سے متعلق گاڑیوں کی خریداری کا خط جعلی تھا، فوج میں احتساب کا کڑا نظام ہے، پاک فوج بھی کفایت شعاری کے حق میں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت ایک وار کرے گا ہم 10 جوابی وار کریں گے، پاکستان واحد ملک ہے جو سب کے ساتھ دوستی کا خواہاں ہے، تاہم ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر آنے والے دن کے ساتھ بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے، سسٹم بہتر ہو تو ملک ترقی کرتا ہے، سسٹم مضبوط ہو تو حکومت کا حکم مانا جاتا ہے۔

وہ بولے کہ تقریباً تمام مسلم ممالک بے سکونی کا شکار ہیں، پاکستان کو سب سے زیادہ دہشت گرد کا سامنا رہا، میڈیا، عوام اور فوج نے دہشت گردی خلاف کام کیا، قوم نے 75 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں، قومی یکجہتی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، جمہوریت میں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ تمام اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے، فوج اس وقت منظم ہے، جس پر سب اعتماد کرتے ہیں، فوج دہشت گردوں سے لڑ رہی ہے جبکہ یہ کام پولیس کا تھا، پولیس کو فعال بنانے کیلئے اصلاحات اور ترمیمی بل لانے چاہئیں۔

مدارس سے متعلق ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ مدارس نہیں ان میں پڑھایا جائے والا نصاب مسائل کا سبب ہے، ہر مسئلے کے پیچھے فوج نہیں ہوتی، سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی پر ترجیح نہ دی جائے۔

لاپتہ افراد سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شناخت کوئی نہیں بتاتا کہ کون مسنگ پرسن ہے، وضاحت کوئی نہیں دیتا۔
برطانیہ کے دورے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ باہمی تعلقات میں بہتری کے معاملات پر بات چیت ہوئی، کرپشن سے متعلق معاملات میں فوج کا کوئی کردار نہیں، پاک فوج کی اولین ترجیح قومی سلامتی ہے۔

انہوں نے کہاحکومت وقت نے مشرف کوسیاسی طورپرباہرجا نے دیا۔مشرف کوباہربھیجنے میں فوج کاکوئی عمل دخل نہیں۔

ترجمان پاکستان فوج کا کہنا تھا کہ سرحدپرباڑلگانے سے ا فغانستان،پاکستان میں امن آجائیگا۔ ایک لاکھ فوج مشرقی، 2 لاکھ مغربی سرحد پر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email