آن لائن کریم ٹیکسی سروس شہریوں کو لوٹنے لگی۔

122

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) آن لائن کریم ٹیکسی سروس شہریوں کو لوٹنے لگی، ڈرائیور حضرات کی من مانیوں کی وجہ سے شہری دیگر ٹرانسپورٹ ذرا ئع کو ترجیح دینے لگے،آرام دہ سفر کے لئے سہولت سمجھے جانے والی آن لائن ٹیکسی سروس مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹنے لگی،سواریوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے زیادہ کرائے بٹورنے کی شکایات سامنے آنے لگیں ہیں۔

جبکہ کریم کے بیشتر ڈرائیور کراچی راستوں سے نا واقف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملٹی نیشنل ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کمپنی کریم جو دنیا کے 13ممالک کے 80شہروں میں ٹرانسپورٹ خدمات سرانجام دے رہی ہے،کی کراچی میں ٹیکسی سروس کی کارگردگی کے حوالے سے مختلف شکایات سامنے آنے لگی ہیں،اور کمپنی نے شہریوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔

گلستان جوہر کے رہا ئشی ایک شہری نے جسارت سے گفتگو کرتے ہو ئے بتایا کہ میں نے گزشتہ روز گھر جانے کے لئے کریم کی ایپ کے زریعے ٹیکسی بک کرائی ، ڈرائیور محمد قاسم قریشی جس کا گاڑی نمبرBJN-474 تھا ،مجھے آٹھ منٹ میں پہنچنے کو کہا، لیکن میں کم از کم آدھے گھنٹے تک انتظار کرتا رہا اور ڈرائیور کو متعدد کالز کیں کرکے ریگل چوک پہنچے کو کہا لیکن وہ ریگل چوک پہنچے کے بجائے آگے سنگل پرپہنچ گیا،

کریم سروس اور اس کے ڈرائیوروں کا رویے انتہا ئی خراب تھا ،جب اس سے کہا گیا کہ تم کہا ں کھڑے ہو توا س نے کہا کہ میں سنگل پر ہوں، اس پر میں اسے بتایا کہ ریگل چوک وہ ہے جس کے چاروں طرف گاڑیاں گھو متی ہیں،تمہیں جو جگہ بتائی ہے پرانا وقار الیکڑونکس اور یہ شہر کا معروف مقام ہے تو درائیور نے کہا کہ میں آپ کی الٹی سیدھی با تیں سننے کے لئے نہیں ہوں اور رائڈ کینسل کررہا ہوں اس پر میں نے کہاجاؤ کینسل کردو نہیں جانا تمہارے ساتھ،اسکی شکایت کریم کی شکایتی سروس پر کردی گئی ہیں،

جبکہ دوسرے ڈرائیور نے اپنے مرضی کا راستہ اختیا ر کیا اور جو رائڈ تین سو سے ساڑ ھے تین سو کی تھی وہ آخر میں464روپے کی پڑگئی،جس سے ڈرائیور کے پو ائنٹس بھی بن گئے اور کریم کو بھی فائدہ ہو گیا، 

دوسری جانب ڈرائیوروں کے حوالے سے یہ بھی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ آن لائن ٹیکسی کی بکنگ کرانے کے لئے ہر بار تین چار ڈرائیوروں کو کال کرنا پڑتی ہے تب جاکر کوئی ڈرائیور دستیاب ہوتا ہے، کیونکہ وہ با آسانی مطلوبہ منزل پر پہنچنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اکثر اوقات منزل کے قریب اپنی مرضی کا کوئی دوسرا مقام آفر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ اتریں گے تو آپ کو لے جاسکتے ہیں ورنہ نہیں،

اس عمل میں سواریوں کا کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں اکثر سفر کرنے والے عمران علی کا کہنا تھا کہ آن لائن ٹیکسی کریم کی سروس ابتداء میں اچھی تھی لیکن اب اس کا معیار گر رہا ہے، اس کی متعدد گاڑیوں کی حالت درست نہیں ہے،

مجھے پچھلے دنوں اپنے دوستوں کے ساتھ گلستان جوہر سے لیاقت آباد کی طرف جانا تھا میں نے کریم کی ٹیکسی بک کرائی اور جب سفر پر روانہ ہوئے تو انکشاف ہوا کہ گاڑی کی ایک سیٹ ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں کافی تکلیف اٹھانا پڑی، اسی طرح کی شکا یت یو نیو رسٹی سے ڈولمین جانے والی خواتین نے بتایا کہ کریم میں سفر کے دوران ڈرائیور مسلسل کسی سے فون پر گفتگو کرنے میں مصروف رہا، اور اپنی لو کیشن سے آگاہ کرتا رہا اور خواتین کی گفتگو کے بارے میں کسی کو بتاتا رہا کہ وہ کیا با تیں کر رہی ہیں، 

اس کے علاوہ ڈرائیور حضرات کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا، بعض ڈرائیورسفر کے دوران مطلوبہ اسپیڈ سے کم رفتار استعمال کرکے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں تاکہ ویٹنگ اور ٹریفک آپشن میں زیادہ کرایہ بنے،یہ سروس پیک آورکے بہانے بھی اکثر اوقات دوگنا یا تین گنا زیادہ کرایے وصول کرتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اب سفر کے لئے میرا پہلا آپشن کریم کی
بجائے دوسری ٹیکسی سروس ہو تی ہے۔ 

کریم ٹیکسی کے حوالے سے شکایت کرتے ہو ئے ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ آن لائن کریم ٹیکسی کی رائڈ کینسل کرنے کے با وجود مجھے آدھے گھنٹے بعد کریم ایپ پر نوٹیفیکیشن موصول ہوا جس میں کریم سروس استعمال کرنے پر میرا شکریہ ادا کیا گیا اور 150روپے کرایہ ادا کرنے کا کہا گیا ،

نہ میں نے سفر کیا اور نہ ڈرائیور کی شکل تک دیکھی لیکن مجھے نوٹیفیکیشن اور پھر ای میل کے ذریعے کرایے کا بل موصول ہوگیا تھا جو ظاہر ہے مجھ سے اگلی ٹرپ کے دوران وصول کرلیا جائے گا۔

میں نے شکایتی سروس پر اپنی شکایت بھی درج کرائی ہے لیکن کوئی جواب نہیں ملا ہے۔یاد رہے کہ کریم سروس اور اس کے ڈرائیوروں کے خراب رویے کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں،

اس حوالے سے موقف جا نے کے لئے جسارت نے کریم کے مینجنگ ڈائریکٹر جنید اقبال سے ان کے نمبر 03212431621پرمتعدد بار رابط کرنے کی کو شش کی تاہم ان سے رابط نہیں ہو سکا۔

Print Friendly, PDF & Email