6افراد کے قتل اور دہشتگردی کے مقدمے میں سزائے موت کے ملزمان بری

39

لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور ہائیکورٹ نے 6 افراد کے قتل اور دہشت گردی کے مقدے میں سزائے موت کے مجرم عابد رضا اور ان کے 3 ساتھیوں کو بری کر دیا۔ عابد رضا اور ان کے ساتھیوں نے انسداد دہشت گردی عدالت گجرات کا فیصلہ چیلنج کر رکھا تھا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار محمد شمیم خان اور جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ ذاتی دشمنی کا مقدمہ تھا جس میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں۔ معاون وکیل نے کہا کہ اس کیس میں 2 کانسٹیبلوں کے قتل پر دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں ، آج تک دہشت گردی کی دفعات کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا ، ذاتی دشمنی کی حد تک فریقین میں صلح ہو چکی ہے، اس لیے ملزموں کو بری کیا جائے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر خرم خان نے بتایا کہ ہائیکورٹ نے عابد رضا کو راضی نامے کی بنیاد پر بری کر دیا تھا، تاہم عدالت عظمیٰ نے 2015ء میں ازخود نوٹس لے کر کیس دوبارہ ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔ دہشت گردی کے مقدمے میں راضی نامے کی کوئی حیثیت نہیں لہٰذا ملزموں کی اپیلیں خارج کی جائیں۔دلائل سننے کے بعد 2 رکنی بینچ نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے لیگی رہنما عابد رضا اور ان کے 3 ساتھیوں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔تھانہ سول لائنزگجرات میں عابد رضا کے خلاف 2 پولیس کانسٹیبلوں سمیت 6 افراد کو قتل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج تھا اور ٹرائل عدالت نے 1999ء میں عابد رضا سمیت شریک مجرمان کومجموعی طور پر6-6 مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ