پاک امریکا تعلقات مکمل تعطل کا شکار ہیں، ڈاکٹر معید یوسف

44

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) پاک امریکا تعلقات کے ماہر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا تعلقات اس وقت مکمل تعطل کا شکار ہیں وزیر خارجہ کے دورہ امریکا سے مثبت تاثر گیا ہے اس وقت پبلک ڈپلومیسی کا شدید فقدان نظر آرہا ہے ۔ جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برا ئے خا رجہ کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ امریکا کے بعد پاکستان امریکا تعلقات کے عنوان سے پبلک ہیئرنگ کا انعقاد پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری اسٹیڈیز میں ہوا، یونیورسٹی طلبا، میڈیا ، سول سوسائٹی، سیاستدان، سفرأ اور دیگر شعبہ بائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں پبلک ہیئرنگ میں شرکت کی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور مشاہد حسین سید نے ثالث کا کردار ادا کیا جبکہ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، پاک امریکا تعلقات کے ماہر ڈاکٹر معید یوسف، سینیٹر شیری رحمن اور تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان امریکا تعلقات مکمل تعطل کا شکار ہیں جب تک افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوتا پاک امریکا تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ اس وقت پاک چین اور بھارت امریکا تعلقات مضبوط ہورہے ہیں۔ امریکا کے اندر پاکستان کا تاثر منفی ہے، امریکی سیکرٹری خارجہ کا دورہ پاکستان اور پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ امریکا مثبت اقدام ہیں جس سے یہ تاثر گیا ہے کہ دونوں مالک اپنے مسائل حل کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے افغانستان کے اندرمفادات ایک دوسرے کے متضاد ہوچکے ہیں،امریکا چاہتا ہے پاکستان اٖفغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے جو اب آسان نہیں ہوگا۔ افغانستان میں پاکستان اور امریکا کیلیے تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع موجود ہے جس سے جلد از جلد فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں واضح تعطل ہے۔ پاکستان کو یہ پتا نہیں کہ امریکا افغانستان میں چاہتا کیا ہے۔ پہلے جنگ پھر مذاکرات کی بات کی جاتی ہے۔ تمام مشکلات کے باوجود پاکستان کو امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس موقع پر بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور لمز یونیورسٹی کے پروفیسر رسول بخش رئیس نے کہا کہ ہم ماضی کا جائزہ لیے بغیر موجودہ حالات اور مستقبل کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ افغانستان میں40سال سے جنگ جاری ہے لیکن کوئی ملک اس جنگ کو جیت نہیں سکا۔ امریکا بھی طویل جنگ کے بعد اس بات پر متفق ہے کہ افغان مسئلے کا حل جنگ سے ممکن نہیں ہے اور مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے اپنی افواج کی تعداد کم کر دی ہے، ابھی 16ہزار امریکی فوج اور14ہزار کنٹریکٹرز افغانستان میں موجود ہیں جن کی موجودگی کا مقصدخطے میں ایران، پاکستان اور چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ موجودہ حالات میں امریکا افغانستان میں پالیسی کے حوالے سے الجھن کا شکار ہے کہ وہ افغانستان میں کیا کردار ادا کرے اور دوسرا یہ کہ افغان طالبان کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اپنائے۔پاکستان کیلیے چین اور امریکا دونوں اہم ممالک ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ