واٹر کمیشن: غیر معیاری دوا ساز کمپنی کیخلاف عدالتی تحقیقات کا حکم

34

کراچی (اسٹاف رپورٹر) واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم نے سائٹ ایریا میں ادویہ ساز کمپنی کے نالے پر قبضے اور غیر معیاری ادویات سے متعلق معاملے پر سیشن جج غربی کو ادویہ ساز کمپنی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کا حکم دیدیا، ڈی سی ویسٹ، ایم ڈی واٹر بورڈ اور ڈی جیسیپا کو سیشن جج سے تعاون کی ہدایت، کمیشن کے سربراہ کا نارتھ کراچی میں پانی کی قلت سے متعلق شکایت پر وال مینز کو ہٹانے کا حکم۔ سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن کا اجلاس ہوا۔ طارق منصور ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سائٹ ایریا میں پانی کے غیر قانونی کنکشن دیے گئے۔ نالوں پر قبضہ کرکے فیکٹریاں بنا دی گئیں۔ بعض ادویہ ساز کمپنیاں چوری کا غیر معیاری پانی استعمال کر رہی ہیں۔ یہ ادویات ملک کے بیشتر شہروں میں استعمال ہوتی ہیں۔ جس پر کمیشن نے سائٹ ایریا میں ادویہ سازکمپنی کے نالے پر قبضے اور غیر معیاری ادویات سے متعلق معاملے کی جوڈیشل انکوئری کا حکم دے دیا۔ کمیشن نے سائٹ ایریا میں پانی چوری اور نالوں پر تجاوزات پر ڈی ایس بی سی اے، اینڈی واٹر بورڈ، ڈی سی ویسٹ، ایم ڈی سائٹ کو 11 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔کمیشن نے پانی کی قلت اور واٹر بورڈ کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیشن نے ریماکس دیے کہ واٹر بورڈ افسران کی کارکردگی ناقص اور افسوسناک ہے۔ کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہوگیا اب نااہل افسران کو جیل جانا ہوگا۔ جب تک 10 سے 12 افراد کو برطرف نہیں کیا جائے گا یہ نہیں سدھر سکتے۔ ایک سال سے صرف کاغذی کارروائی کررہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.