صفرالمظفر اور نحوست

74

 

 

عمران الہی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ضلالت و جہالت سے مبرا اور دلائل و براہین سے آراستہ ہے، اسلام کے تمام احکام پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ اور اس دین مبین میں خرافات وبدعات کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اب کوئی نام نہاد عالم دین، مفتی یا محدث ایسا نہیں جو اس دین مبین اور صاف و شفاف چشمے میں بدعات و خرافات کا زہر ملائے لیکن افسوس ہے کہ شیطان اور اس کے پیروکاروں نے اس دین صافی کو ضلالت وجہالت سے خلط ملط کرنے اور خرافات سے داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
دیگر مہینوں کی طرح ماہِ صفر میں بھی کچھ جاہلانہ رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ صفر کا مہینہ اسلامی مہینوں کی لڑی کا دوسرا موتی ہے۔
صفر کے متعلق قدیم خیالات
قبل از اسلام اہل جاہلیت ماہِ صفر کو منحوس خیال کرتے اور اس میں سفر کرنے کو برا سمجھتے تھے، اسی طرح دورِ جاہلیت میں ماہِ محرم میں جنگ وقتال کو حرام خیال کیا جاتا تھا اور یہ حرمتِ قتال ماہ صفر تک برقرار رہتی لیکن جب صفر کا مہینہ شروع ہوتا تو جنگ دوبارہ شروع ہو جاتی، اس لیے یہ مہینہ منحوس سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے لوگ ماہ صفر کے بارے عجیب عجیب خیالات رکھتے تھے۔
شیخ علیم الدین سخاوی نے اپنی کتاب المشور فی اسماء الایام والشہور میں لکھا ہے کہ صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً اْن کے (اہل عرب) گھر خالی رہتے تھے اور وہ لڑائی جھگڑے اور سفر میں چلے جاتے تھے، جب مکان خالی ہوجاتے تو عرب کہتے تھے: صَفَرَ المَکَانْ یعنی مکان خالی ہوگیا۔
الغرض آج کے پڑھے لکھے معاشرے میں بھی عوام ماہِ صفر کے بارے جہالت اور دین سے دوری کے سبب ایسے ایسے توہمات کا شکار ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ اسی قدیم جاہلیت کا نتیجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عوام میں وہی زمانۂ جاہلیت جیسی خرافات موجود ہیں۔
صفر کے متعلق جدید خیالات
برصغیر کے مسلمانوں کا ایک طبقہ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتا ہے۔ اس مہینے میں توہم پرست لوگ شادی کرنے کو نحوست کا باعث قرار دیتے ہیں۔ فی زمانہ لوگ اس مہینے سے بدشگونی لیتے ہیں اور اس کو خیر وبرکت سے خالی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کام مثلاً کاروبار وغیرہ کی ابتدا نہیں کرتے، لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے۔ اس قسم کے اور بھی کئی کام ہیں جنہیں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا اعتقاد ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو اس مہینے میں شروع کیا جاتا ہے وہ منحوس یعنی خیر و برکت سے خالی ہوتا ہے۔
ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی تردید
اس مہینے کے بابت لوگوں میں مختلف رسومات وبدعات رواج پاچکی ہیں جن کی تردید نبی اکرمؐ نے اس حدیث میں فرمائی: ’’(اللہ کی مشیت کے بغیر) کوئی بیماری متعدی نہیں اور نہ ہی بدشگونی لینا جائز ہے، نہ اْلو کی نحوست یا روح کی پکار اور نہ ماہِ صفر کی نحوست‘‘۔
ابن رجبؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ماہِ صفر کو منحوس سمجھنے سے منع کیا گیا ہے، ماہ صفر کو منحوس سمجھنا تطیّر (بدشگونی) کی اقسام میں سے ہے۔ اسی طرح مشرکین کا پورے مہینے میں سے بدھ کو منحوس خیال کرنا سب غلط ہیں‘‘۔ قرۃ عیون الموحدین
امام ابوداؤدؒ محمد بن راشد سے نقل کرتے ہیں: اہل جاہلیت یعنی مشرکین ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے تھے، لہٰذا اس ’لَا صَفَرَ‘ حدیث میں ان کے اس عقیدے اور قول کی تردید کی گئی ہے۔ قرۃ عیون الموحدین
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے اور کہتے کہ یہ منحوس مہینہ ہے۔ چنانچہ رسول اکرمؐ نے اْن کے اس نظریے کو باطل قرار دیا۔ لطائف المعارف
ماہ و سال، شب و روز اور وقت کے ایک ایک لمحے کا خالق اللہ ربّ العزت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی دن، مہینے یا گھڑی کو منحوس قرار نہیں دیا۔ در حقیقت ایسے توہمانہ خیالات غیر مسلم اقوام اور قبل از اسلام مشرکین کے ذریعے مسلمانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ مثلاً ہندؤں کے ہاں شادی کرنے سے پہلے دن اور وقت متعین کرنے کے لیے پنڈتوں سے پوچھا جاتا ہے۔ وہ اگر رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت مقرر کردے تو اْسی وقت شادی کی جاتی ہے، اس سے آگے پیچھے شادی کرنا بدفالی سمجھا جاتا ہے۔ آج یہی فاسد خیالات مسلم اقوام میں آگئے ہیں، اس لیے صفر کی خصوصاً ابتدائی تاریخوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے، یہ سب جہالت کی باتیں ہیں، دین اسلام کے روشن صفحات ایسے توہمات سے پاک ہیں۔ کسی وقت کو منحوس سمجھنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں بلکہ کسی دن یا کسی مہینے کو منحوس کہنا درحقیقت اللہ ربّ العزت کے بنائے ہوئے زمانے میں، جو شب وروز پر مشتمل ہے، نقص اور عیب لگانے کے مترادف ہے اور اس چیز سے نبی نے ان الفاظ میں روک دیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے۔ وہ وقت (دن، مہینے، سال) کو گالی دیتا ہے حالانکہ وقت (زمانہ) میں ہوں، بادشاہت میرے ہاتھ میں ہے، میں ہی دن اور رات کو بدلتا ہوں۔‘‘ سنن ابوداؤد
لہٰذا ماہِ صفر کو منحوس خیال کرنا، نحوست کی وجہ سے اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا، اس میں مٹی کے برتن ضائع کردینا، ماہ صفر کے آخری بدھ کو جلوس نکالنا اور بڑی بڑی محفلیں منعقد کرکے خاص قسم کے کھانے اور حلوے تقسیم کرنا اور چْوری کی رسم ادا کرنا وغیرہ ان احادیث کے مطابق مردود اور شرکیہ عمل ہے جس سے ہر صورت میں اجتناب ضروری ہے۔
آخری بدھ کی خرافات
بعض لوگ صفر المظفر کے آخری بدھ کو چھٹی کرکے کاروبار اور دکانیں بند کردیتے ہیں۔
اور عید کی طرح خوشیاں مناتے ہیں اور سیر سپاٹے کے لیے گھروں سے نکل جاتے ہیں جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ اس آخری بدھ میں صحت یاب ہوئے تھے اور سیر و تفریح کے لیے باہر تشریف لے گئے تھے حالانکہ اس دعوے کی اصل نہ حدیث میں ہے اور نہ ہی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ ساری بدعات لغو اور دین حنیف میں اضافہ ہیں، شریعت میں ان کا کوئی جواز نہیں۔ اسی بات کو واضح کرتے ہوئے علامہ رشید احمد گنگوہی حنفی رقم طراز ہیں: آخری بدھ کی کوئی اصل نہیں بلکہ اس دن جناب رسول اللہؐ کو شدتِ مرض واقع ہوئی تھی۔ یہودیوں نے خوشی منائی تھی، وہ اب جاہل ہندؤں میں رائج ہوگئی ہے۔ تالیفات رشیدیہ
فاضل بریلوی احمد رضا خان بدھ کے بارے لکھتے ہیں: آخری بدھ کی کوئی اصل نہیں، اس دن نبی اکرمؐ کی صحت یابی کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ مرضِ اقدس جس میں وفاتِ مبارک ہوئی اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے۔ احکام شریعت
صفر المظفر اور تیرہ تیزی
مغربی دنیا تیرہ (13) کے عدد کو منحوس سمجھتی ہے، یہی فاسد خیالات مسلم قوم میں در آئے ہیں، اس لیے صفر کی خصوصاً ابتدائی تیرہ تاریخوں کو منحوس گمان کیا جاتا ہے۔ ان ابتدائی تیرہ دنوں کو تیرہ تیزہ کا نام دیا جاتا ہے، ان کی نحوست کو زائل کرنے کے لیے مختلف عملیات کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔ دین اسلام کے سنہری اوراق ایسے توہمات سے پاک ہیں اور ان دنوں میں سے کسی دن کو منحوس سمجھ کر شادی سے رک جانے کی بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ان تیرہ دنوں میں کثرت سے بلاؤں، آفتوں اور مصائب کا نزول ہوتا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی ’بہشتی زیور‘ میں لکھتے ہیں: صفر کو تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اس مہینے کو نامبارک جانتے ہیں اور بعض جگہ تیرہویں تاریخ کو کچھ گھونگنیاں وغیرہ پکا کر تقسیم کرتے ہیں کہ اس کی نحوست سے حفاظت رہے، یہ سارے اعتقاد شرع کے خلاف اور گناہ ہیں، توبہ کرو۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.