سیدنا عمربن عبدالعزیزؒ

90

 

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

رات گئے ایک شخص امیرالمومنین کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور آدھی دنیا کا حکمران اپنے گھر سے باہر نکل آتا ہے، وہ شخص اپنے ہاتھ میں پکڑی اشرفیوں کی بھری تھیلی امیرالمومنین کی طرف بڑھاتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ اتنے سو میل دور فلاں بستی سے آیا ہوں اور یہ مال زکوۃ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، امیرالمومنین نہایت افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ مال راستے میں تقسیم کردیا ہوتا، میرے پاس لانے کی کیا ضرورت تھی؟ نووارد عرض کرتا ہے کہ امیرالمومنین سارے راستے آواز لگاتا آیا ہوں کہ لوگو زکوۃ کا مال ہے کوئی تو لے لے، لیکن سینکڑوں میل کے اس سفر کوئی زکوۃ لینے والا نہ تھا۔ یہ امیرالمومنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز تھے جن کی خلافت اسلامیہ میں اس قدر امن وامان اور خوشحالی تھی کہ سینکڑوں میل تک اشرفیاں لیے ایک مسافر بلاخوف وخطر سفرکرتا رہا اور اسے کوئی زکوۃ کا مستحق بھی نہ ملا اور حکمران ایسا کہ جس کے گھر پر کوئی پہرہ نہ تھا۔ نصف شب سائل کے دروازہ بجانے پر کسی دربان نے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ حکمران خود بستر سے بیدار ہوا اور آنے والے کو خوش آمدید کہا۔
عمربن عبدالعزیزؒ کی کنیت ’’ابوحفص‘‘ تھی، بنوامیہ کے آٹھویں حکمران تھے، سلیمان بن عبدالملک کے بعد تخت نشین ہوئے اوراپنی عمدہ وپاکیزہ سیرت اور راست روی وپاک دامنی کے باعث مورخین کے ہاں خلفائے راشدین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ 61ھ، مدینہ منورہ میں جنم لیا، ننھیال فاروقی خاندان سے تھا۔ جوار روضہ اقدس کے باعث جہاں بچپن میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا، وہیں عبداللہ بن عمرؓ اور انس بن مالکؓ سمیت متعدد صحابہ و تابعین سے علم حاصل کرنے کی سعادت بھی میسر آگئی۔ والد محترم نے بھی تربیت میں کمی نہ ہونے دی، ایک بار بالوں کی آرائش کے باعث جماعت میں غیر حاضری ہوئی تو سخت گیر باپ نے عنفوان شباب میں قدم رکھنے والے نوخیز عمر بن عبدالعزیز کے بال ترشوا دیے۔ شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے، منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے اس لحاظ سے شباب نہایت ہی نفاست و خوش پوشاکی میں گزرا، خلیفہ بننے تک اعلی معیار زندگی کے شاہانہ طور وطریق وطیرہ خاص رہے۔ عطریات وخوشبو اور لباس وپہناوے میں حتی کہ شاہی خاندان کے نوجوان بھی پیچھے تھے۔ نازونعم کے باوجود نہ صرف یہ کہ کبائر سے ہمیشہ مجتنب رہے بلکہ عبادات میں ذوق وشوق اس پاکیزہ صفت نوجوان کا وصف خاص رہا۔ شاید اسی کے باعث مدینہ منورہ جیسے مقدس ترین شہر کی خدمت بطور گورنری بھی آپ کے حصے میں آئی، اس دور میں مسجد نبوی کی تعمیر نو آپ کا شاندار کارنامہ ہے، جبکہ عدل وانصاف اور اہل مدینہ سے مہمانوں جیسے برتاؤ سے رعایا کے دل جیت لیے۔ ولایت مدینہ منورہ کے دوران آپ نے دس قابل ترین افراد کی ایک مجلس مشاورت بنائی تھی جس کے پاس وسیع انتظامی وعدالتی اختیارات بھی تھے۔ درحقیقت آپ کے پیش رو حکمرانوں نے اہل حجاز سے جو سلوک کیا تھا، عمر بن عبدالعزیز نے اس کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔
سلیمان بن عبدالمک نے عمر بن عبدالعزیزؒ کو اپنا جانشین مقررکیا تھا لیکن آپ کو اس کی اطلاع نہیں تھی۔ 718ء میں خلیفے کے انتقال کے بعد مہر بند وصیت پر شاہی عمائدین سلطنت واراکین خاندان خلافت سے بیعت لی گئی اور جب اس لفافے کو کھولا گیا تو عمر بن عبدالعزیزؒ کا نام لکھا پایا۔ اس فیصلے پر اکثر افراد شاہی خاندان نے اظہار ناپسندی کیا لیکن شاہی چوب داروں نے زبردستی بیعت لی اور یوں عمربن عبدالعزیزؒ تخت نشین ہوئے۔ تخت نشینی کے بعد مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہو تو کسی اور کو اپنا حکمران بنالو، لیکن عوام کی اکثریت نے خوش دلی سے آپ کی خلافت کو قبول کرلیا۔ جس سے ایک جمہوری حکومت کا آغاز ہوا اور آپ نے خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ کے اولین خطبہ خلافت سے ملتا جلتا خطبہ ارشاد فرمایا، جسے تاریخ نے سنہرے حروف سے تحریر کیا ہے۔ درحقیقت یہی خطبہ ایک بار پھر امت مسلمہ کو ملوکیت سے خلافت کی طرف گامزن کرنے والی دستاویز ثابت ہوا۔ بار خلافت سے زندگی بالکلیہ تبدیل ہوگئی اور نفاست و خوش لباسی ساری کی ساری فقر ودرویشی میں تبدیل ہوگئی۔ خلافت کے بعد سواری کے لیے اعلی نسل کے گھوڑے پیش کیے گئے لیکن یہ کہہ کر لوٹا دیے کہ میرے لیے میرا خچر ہی کافی ہے، دوران سفر ایک نقیب آگے کو چلا تو اسے ہٹادیا کہ میں بھی ایک عام مسلمان ہوں، سلیمان بن عبدالملک کے ترکے پر کل خاندان بنوامیہ کی نظر تھی لیکن ایک حکم شاہی کے ذریعے گزشتہ حکمران کی ساری جائداد ونقد بیت المال میں جمع کرادیے، اہل بیت نبوی کی محبت و عقیدت میں باغ فدک، جو ایک عرصے سے گھمبیر مسئلہ تھا اور آپ کے پیش روحکمرانوں نے اس پر قبضہ کر رکھا تھا، اس کے اصل ورثاء4 خاندان بنو ہاشم کو لوٹا دیا، اس کے علاوہ بھی بنوامیہ نے آل علی کی جن جن جائدادوں کو زبردستی اپنی تحویل میں لے رکھا تھا انہیں واگزارکرایا اور ان کے اصل مالکان کو لوٹا دیا۔ خطبہ جمعہ میں سیدنا علیؓ کی شان میں جو گستاخیاں کی جاتی تھیں انہیں اپنی خلافت کے روزاول سے بندکرادیا۔
عمربن عبدالعزیزؒ نے اپنی خاندانی و نجی زندگی بھی مکمل طور پر شریعت کے تابع کردی اور خلفائے بنوامیہ کی بجائے خلفائے راشدین کے شعارکو اپنایا۔ خلافت کے بعد اپنی زوجہ کو حکم دیاکہ اپنے زروجواہرات و زیورات بیت المال میں جمع کرادو، اتنی بڑی ریاست اور شاید اس وقت دنیا کی سب سے بڑی و متمدن ریاست کے حکمران کے گھر کوئی خادمہ و ملازمہ نہ تھی بلکہ خاتون اول اپنے ہاتھوں سے ہی گھرکا سارا کام سرانجام دیتی تھیں، جبکہ یہ خاتون اول ’’فاطمہ‘‘ خلیفہ عبدالملک بن مروان کی بیٹی اور دو خلفا ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی بہن تھی۔ عمربن عبدالعزیزؒ نے بیت المال پر خلیفے کے ذاتی تصرف کو بالکل ختم کردیا اور سیاسی رشوت کے طور پر دیے جانے والے شاہی عطیات و تحائف پر پابندی لگادی۔ شاہی خاندان کے وظائف بند کرکے بیت المال کا رخ عوام کی طرف موڑ دیا۔ اس اقدام سے شاہی خاندان کو بے حد تکلیف ہوئی، یہاں تک کہ عمربن عبدالعزیزؒ نے عام اعلان کرادیا کہ شاہی خاندان کے کسی فرد نے کسی کی جائداد زبردستی غصب کر رکھی ہے تو وہ اس پر دعوی کرے اسے انصاف فراہم کیاجائے گا۔
اس وقت تک نومسلموں سے بھی اس لیے جزیہ وصول کیا جاتا تھا کہ وہ ٹیکس سے بچنے کے لیے مسلمان ہوئے ہیں، عمربن عبدالعزیزؒ نے اس ظالمانہ ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس کے علاوہ بھی رعایا پر ناجائز لگان ختم کر دیے گئے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ریاست کی آمدنی میں بہت زیادہ کمی ہوگئی جسے آپ نے سرکاری اخراجات میں کٹوتی سے پورا کیا جبکہ دوررس نتائج بہت جلد نمودار ہونے لگے اور عوام میں خوشحالی عام ہوگئی، صرف ایک سال بعد یہ نوبت آگئی کہ لوگ صدقات لے کر نکلتے تھے اور لینے والا نہیں ملتا تھا۔
آپ کا کم و بیش اڑھائی سالہ اقتدار خود خاندان بنوامیہ کے لیے درد سر بن گیا اور ان کے عیش و عشرت وچیرہ دستیاں ماند پڑچکی تھیں۔ ایک غلام کو سات ہزار کی رقم دے کر امیرالمومنین کو زہر دے دیا گیا، معلوم ہونے پر غلام سے رقم لے کر بیت المال میں جمع کرادی اور اسے آزاد کرکے حکم دیا یہاں سے فوراََ نکل جاؤ کہ مبادا کوئی اسے قتل کردے۔ 25 رجب 101ھ کو اس دار فانی سے کوچ کرکے شہادت کی منزل مراد حاصل کر لی اور ترکے میں کل سترہ دینار چھوڑے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ