گلوکار تائب ہوگیا

62

 

ابو نعمان بشیر احمد

زاذانؒ پہلے نشہ کیا کرتا تھا اور سرنگی و طنبور بجایا کرتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کے ذریعے اسے ہدایت دی تو وہ انتہائی نیک، عابد، زاہد اور جید علمائے تابعین میں سے ہوگیا۔ ان کی توبہ کا واقعہ وہ خود بیان کرتے ہیں:
’’میں انتہائی خوبصورت آواز اور بہترین سارنگی بجانے والا نوجوان تھا، ایک دن میں اپنے دوست واحباب کے ساتھ شراب کی مجلس سجائے گانا گا رہا تھا کہ اچانک سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ داخل ہوئے، انہوں نے آتے ہی شراب کا برتن الٹا دیا، سارنگی توڑ دی اور فرمایا:
’’کیا ہی خوب ہو اگر اسی خوبصورت آواز کے ساتھ تم سے قرآن کریم سنا جائے‘‘۔
جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ عبد اللہ بن مسعودؓ ہیں، یہ سنتے ہی میرے دل میں رجوع الی اللہ کی کیفیت طاری ہوگئی اور سسکیاں بھرنے لگا اور جلدی سے میں نے ان کا دامن پکڑ لیا وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے گلے لگا کر رونے لگے اور فرمانے لگے:
’’مبارک ہو، اس انسان کو جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرنے لگے۔ تشریف رکھیے۔‘‘ اور پھر مجھے کھجوریں دیں۔
اس واقعے سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں:
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کس قدر اخلاص والے اور دعوت دینے میں سچے تھے کہ ان کی دعوت پر زاذان جیسے آدمی کو ہدایت کی توفیق مل گئی۔ اس واقعے سے متعلق شیخ عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں:
دعوت میں صداقت، اطاعت اور اخلاص کو دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود کے ذریعے زاذان کو ہدایت کی توفیق دی اسی لیے تمہیں بھی مفاسد کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ حتیٰ کہ تیرے اندر اس قدر خوفِ الٰہی آجائے کہ تنہائی میں اس کا خوف ہو، لوگوں میں بھی صرف رضائے الٰہی کے لیے کام کرے اور ریا و دکھلاوے سے اپنے آپ کو بچائے رکھے، ہر وقت اس کی توحید کا قائل و فاعل رہے، اور اپنے آپ کو تمام شیطانی خواہشات اور فسق و فجور، بدعات اور گمراہی سے بچائے رکھے‘‘۔ (غنیۃ الطالبین139-140/1)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے غلط کام سے روکنے کے لیے سب سے اعلیٰ درجے کا طریقہ اختیار کیا۔ کیونکہ ان کو ہاتھ سے روکنے کی ضرورت تھی تو انہوں نے شراب کے برتن اور سارنگی کو توڑدیا اور برائی سے روکنے کے لیے لوگوں میں مثال قائم کردی کہ آدمی برائی سے روکنے کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت سے خائف نہ ہو، حالانکہ وہ اکیلے تھے اور مجلس میں ایک جماعت تھی اور مجلس بھی شراب و ساز کی تھی، نیز ان کی حویلی میں جاکر منع کیا جب کہ خود عبد اللہ بن مسعودؓ نحیف و کمزور جسم والے تھے۔ چونکہ وہ محرمات اور شعائر کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ رعب و جلال دیا تھا۔ سیدنا عامر بن قیسؓ نے کیا خوب فرمایا:
جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اس سے ڈراتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ نے نہیں ڈرتا تو اللہ اس کو ہر چیز سے ڈراتا ہے۔ (صفۃ الصفوۃ 203/3)سیدنا عبد اللہ بن مسعود کا برائی کو ہاتھ سے روکنے کی سختی کے ساتھ، زاذان کے ساتھ انتہا درجے کی شفقت، رحمدلی اور خیر خواہی بھی نظر آتی ہے کیونکہ جب زاذان توبہ کی طرف مائل ہوا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ ان کی طرف مکمل متوجہ ہوئے، ان سے معانقہ کیا، توبہ کی طرف میلان دیکھ کر خوشی سے آنسو بھر آئے اور بہترین الفاظ کے ساتھ مبارک پیش کی۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دیجیے۔ (البقرہ 223)پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ زاذان کو اپنے پاس بٹھایا اور تحفے میں کھجوریں دیں۔ ہمارے اسلاف اسی طرح حق کی تعلیم اور دعوت دیتے تھے۔ اور مخلوق پر شفقت و خیر خواہی کرتے تھے۔
اس واقعے سے ہمیں عبداللہ بن مسعودؓ کی ذہانت و فطانت بھی معلوم ہوئی کہ ان کے انداز تبلیغ سے کس طرح زاذان فوراً توبہ کی طرف بے تاب ہوگیا۔ چونکہ وہ خوبصورت آواز والا تھا، تو اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: اے نوجوان! اگر تجھ سے اس طرح خوبصورت آواز میں قرآن سنا جائے تو تیری کیا ہی بات ہو، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
’’اے نوجوان! تیری کس قدر خوبصورت آواز ہے، اگر تو قرآن کی تلاوت کرے تو اس سے بھی کئی گنا زیادہ خوبصورت آواز ہوگی‘‘۔
یقیناً دعوت و اصلاح کا کام مخاطب اور موقع ومحل کی مناسبت سے کرنا از حد مفید اور دل کو مائل کرنے والا ہوتا ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جیسے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے تو ملحوظ رکھا، لیکن اس عمل کو آج بہت سے لوگوں نے فراموش کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ