اولاد ایک عظیم نعمت

54

 

شبیر احمد نورانی

نیک اولاد انسان کے لیے دنیا میں سکون وامن کا باعث ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے انتہائی عجز وانکسار کے ساتھ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہیے!
ارشاد ربانی ہے: ’’اب تم اپنی بیویوں سے شب باشی کیا کرو، اور اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو۔‘‘
ابن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ (ما کتب اللہ) سے مراد اولاد ہے۔(طبری) اسی لیے رسول اللہؐ نے زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت والی عورتوں سے نکاح کا حکم دیا ہے: ’’زیادہ الفت کرنے والی زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کیا کرو، کیونکہ میں تمہارے ذریعے سے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت بڑھانے والا ہوں‘‘۔ (ابوداؤد)
2۔ نیک اولاد انسان کے لیے دنیا میں باعث امن و سکون اور مرنے کے بعد اس کے لیے اولاد کی دعا موجب اجر و ثواب ہے۔رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین طرح کے اعمال کا اجر جاری رہتا ہے۔ (1) صدقہ جاریہ، (2) ایسا علم جس سے فائدہ حاصل ہو، (3) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے۔‘‘
3۔ اگر زندگی میں اولاد کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑجائے، تو اس پر بھی والدین کو اجر ملتا ہے۔ رسول اللہؐ کا ارشاد گرامی ہے: جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں ان بچوں پر شفقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو بھی جنت میں داخل فرمادے گا!
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر رسول اللہؐ کے پاس آئی اور عرض کی،یا رسول اللہ! اس بچے کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں میں تین بچے دفن کرچکی ہوں! آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تین؟‘‘ اس نے کہا۔ جی ہاں! آپؐ نے فرمایا: تب تو تم نے آگ سے محفوظ باڑ (حصار) بنا لیا ہے۔ (مسلم)
4۔ بچیوں کی پیدائش پر ناپسندی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ اس صورت میں انسان اپنے رب کا ناشکرا رضا وتقدیر کا باغی محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ لڑکے اور لڑکیاں بھی عنایت کرنے والی ایک ہی ذات (وحدہ لاشریک ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ترجمہ: ’’زمین وآسمان کی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے جو چاہے پیدا کرے جسے چاہے مؤنث(بچیاں) عنایت کرے، اور جسے چاہے مذکر (بچے) عنایت فرمادے یا انہیں مذکر ومؤنث (بچے اور بچیاں) ملے جلے عطا کرے اور جسے چاہے بانجھ بنادے، بلاشبہ وہ (ہر چیز کو اچھی طرح) جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے!‘‘ ( الشوریٰ :49-50)
بچیوں کی پیدائش پر ناک منہ چڑھانا تو جاہلیت کا مظہر ہے۔ قرآن حکیم نے اس صورت حال کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: ’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ اور وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔‘‘ جبکہ اسلام نے بچیوں کی پرورش کو باعث اجر وثواب قرار دے کر حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ مومن اس بات پر کبیدہ خاطر ہو۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: جس نے دو بچیوں کی جوان ہونے تک پرورش کی تو میں اور وہ روز قیامت اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا۔ (مسلم)
مزید ارشاد فرمایا: جن لوگوں کی بچیوں کے معاملے میں آزمائش ہوگئی پھر اس نے ان پر احسان کیا تو یہ بچیاں ان کے لیے آگ کا بچاؤ بن جائیں گی۔ (بخاری)
بچیوں یا بہنوں کی پرورش اور تربیت کے بارے میں رسول اللہؐ کی تعلیمات مبارکہ میں متعدد بشارتیں اور خوشخبریاں موجود ہیں۔ اکثر وبیشر انبیاءؑ بچیوں ہی کے والد تھے۔اسی لیے امام اہل السنہ احمد بن حنبلؒ کے ہاں جب بچی پیدا ہوتی تو فرماتے: انبیاء بچیوں کے باپ تھے۔
اور پھر اگرہر گھر میں صرف لڑکے ہی پیدا ہوں تو معاشرتی نظام بری طرح متاثر ہوجائے گا۔ کیونکہ نسل انسانی کا بقا وتحفظ مرد وعورت ہر دو کے وجود اور قانونی طریقے سے ملاپ میں مضمر ہے۔ لہذا جس قدر لڑکوں کی ضرورت ہے اسی قدر لڑکیوں کی بھی ضرورت ہے۔ امور خانہ داری، تربیت اولاد اور دیگر متعدد امور صرف عورت ہی بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے۔ لہذا بچیوں سے نفرت جہاں میں اللہ تعالیٰ کی رضا وقدر سے بغاوت ہے۔ وہیں معاشرے کو بھی تباہ کرنے کا موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جاہلیت کے ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین
دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنا
5۔ پیدائش کے بعد بچے کے کان میں اذان کہنی چاہیے:
ابو رافعؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو حسن بن علیؓ کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا، جب وہ فاطمہؓ کی گود میں پہنچے۔ (ابوداؤد)
6۔ بچے کے کان میں اقامت (تکبیر) کہنے سے متعلق کوئی صحیح یا قابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔ جس کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کیا جاسکے۔
امام ابن قیمؒ نے جو فلسفہ اذان بیان فرمایا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بچہ لاشعوری میں سب سے پہلے توحید، رسالت اور نماز کی بات سنتا ہے۔ تو گویا یہ اس طرح کی تلقین ہوجاتی ہے۔ جس طرح دنیا سے الوداع ہونے والے کو تلقین کی جاتی ہے۔ ان کلمات سے انسان کے دل پر بھی اچھا اثر مرتب ہوتا ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ الفاظ اذان سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ اور اس طرح بچے کی حفاظت کا بھی انتظام ہوجاتا ہے۔
گھٹی دینا:
7۔ ہر پیدا ہونے والے کو کسی میٹھی چیز سے گھٹی دینی چاہیے۔ اور اگر کوئی صاحب علم وتقویٰ گھٹی دے کر دعا بھی کردے تو بہت بہتر ہے۔
ابو موسیٰؓ بیان فرماتے ہیں کہمیرے ہاں بچہ پیدا ہوا میں اسے لے کر نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے اس کا نام ابراہیم تجویز فرمایا اور کھجور کی گھٹی دی۔ اور ایک دوسری ر وایت میں ہے کہ اور آپؐ نے اس کے حق میں دعا فرما کر مجھے دے دیا اور یہ ابو موسیٰؓ کا سب سے بڑا لڑکا تھا۔ (بخاری)
انسؓ، ابو طلحہؓ کے بچے کی پدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہؓ نے مجھے کہا کہ اسے نبی کریمؐ کی خدمت میں لے جاؤ۔ اور اس کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی دیں، آپؐ نے اسے لیا اور دریافت فرمایا کہ کچھ ساتھ لائے ہو؟ عرض کیا: جی ہاں، کچھ کھجوریں ہیں۔ آپؐ نے لے کر انہیں چبایا اور اپنے دہن مبارک سے نکال کر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور عبداللہ نام رکھا۔
نوٹ: اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نو مولود کوکھجور سے گھٹی دینی چاہیے اور اگر کھجور دستیاب نہ ہو تو پھر جو بھی میٹھی چیز مل جائے گھٹی دینے والا اسے خوب چبائے حتیٰ کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ نومولود نگل سکے۔ گھٹی دینے والا کوئی نیک آدمی ہو اور اگر نیک آدمی وہاں موجود نہ ہو تو بچہ اس کے پاس لے جایا جائے۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ نیز اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد گھر سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔ اور جو لوگ چالیس روز تک گھر سے نکالنے سے منع کرتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں۔ ورنہ صحابہ کرامؓ ایسا نہ کرتے۔ اور اگر لاعلمی کی بنا پر ایسا کر بیٹھتے تو رسول اللہؐ ضرور رہنمائی فرماتے۔ جب کہ کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے جس میں رسول اللہؐ نے نومولود کو معینہ دنوں تک گھر سے نکالنے سے منع فرمایا ہو۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.