خیر کا مفہوم

59

خدا کا ارشاد ہے کہ تم کو ایک ایسی اْمت بن کر رہنا چاہیے جو خیر کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ (اٰلِ عمرٰن 104)
خیر سے مراد ہر وہ نیکی اور بھلائی ہے جس کو نوعِ انسانی نے ہمیشہ نیکی اور بھلائی سمجھا ہے، اور خدا کی وحی نے بھی اس کو نیکی اور بھلائی قرار دیا ہے۔ الخیر سے مراد وہ ساری نیکیاں ہیں جن کے مجموعے کا نام دین ہے، اور جو ہمیشہ خدا کے پیغمبرؐ خدا کے بندوں تک پہنچاتے رہے ہیں۔ اْمت کا کام یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو کسی امتیاز کے بغیر اس دین کی دعوت دے، اور اْسی سوز اور تڑپ کے ساتھ دعوت کا کام کرے جس طرح خدا کے پیغمبروں نے کیا ہے، اس لیے کہ وہی مشن خدا نے اس اْمت کے سپرد کیا ہے۔
اْمت کی زندگی میں دعوتِ دین کے کام کی وہی حیثیت ہے جو انسانی جسم میں دل کی حیثیت ہے۔ انسانی جسم اسی وقت تک کارآمد ہے جب تک اس کے اندر دھڑکنے والا دل موجود ہو۔ اگر یہ دل دھڑکنا بند کردے تو پھر انسانی جسم، انسانی جسم نہیں ہے مٹی کا ڈھیر ہے۔ اس لیے کہ جسم کو صالح خون پہنچانے والا اور اس کو زندہ رکھنے والا دل ہے۔
ٹھیک یہی حیثیت دعوتِ دین کی بھی ہے۔ اگر اْمت یہ کام سرگرمی سے انجام دے رہی ہے، خدا کے منصوبے اور منشا کے مطابق اْمت میں صالح عناصر کا اضافہ ہو رہا ہے،اور غیرصالح عنصر چھٹ رہا ہے، نیکیاں پنپ رہی ہیں اور بْرائیاں دم توڑ رہی ہیں تو اْمت زندہ ہے اور عظمت و عزت اور وقار و سربلندی اس کی تقدیر ہے، لیکن اْمت اگر اس فرض سے غافل ہوجائے، دینِ حق کے کام کا اسے احساس ہی نہ رہے تو وہ زندگی سے محروم ہے۔۔۔ اور مْردہ ملّت بھلا عزت و عظمت کا مقام کیسے پاسکتی ہے۔
خدا کے نزدیک بھی اْمت کی تمام تر اہمیت اسی وقت ہے جب وہ اس منصب کے تقاضے پورے کرے جس پر خدا نے اسے سرفراز فرمایا ہے۔ اگر وہ اس منصب ہی کو فراموش کردے اور اسے احساس ہی نہ رہے کہ خدا نے مجھے کس کام کے لیے پیدا کیا ہے، تو پھر خدا کو اس کی کیا پروا کہ کون اسے پیروں میں روند رہا ہے، اور کون اس کی عزت سے کھیل رہا ہے۔ (شعورِ حیات، ص 13-15)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ