حیدر آباد ، پابندی کے باوجود بل بورڈز دوبارہ نصب

47

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) حیدر آباد ضلع بھر میں مخدوش عمارتوں، فٹ پاتھوں، گرین بیلٹس، سڑک کے کنارے سمیت پبلک مقامات پر لگے چھوٹے بڑے جہازی سائز کے بل بورڈز کے کھمبوں پر دوبارہ اسکرینیں لگانے کا عمل شروع کردیا گیا، گاڑی کھاتہ میں حال ہی میں تعمیر کی جانے والی عمارت پر بڑا سائن بورڈ لگانے کے لیے آہنی کھمبے لگا دیے گئے۔ لطیف آباد، قاسم آباد میں گرین بیلٹس پر لگے سیکڑوں غیر قانونی بل بورڈز پرکنڈوں کے ذریعے بجلی چلائی جارہی ہے۔ بلدیہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے آپریشن کے پہلے مرحلے میں سٹی لطیف آباد کے علاقوں میں تمام بل بورڈز کی اسکرینیں اتار دی تھیں۔ سیاسی دباؤ، غنڈہ گردی، افسران کی ملی بھگت کے باعث عملے کو کھمبے کاٹنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قاسم آباد ٹاؤن کمیٹی میں تین ہزار سے زائد غیرقانونی بل بورڈز نصب ہیں۔ دوماہ قبل عدالت عظمیٰ آف پاکستان اور واٹر کمیشن کے احکامات کی روشنی میں میونسپل کمشنر نصراللہ عباسی کی نگرانی میں بلدیہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے عملے نے انچارج عبدالوہاب راجپوت کی سرکردگی میں سٹی لطیف آباد کے علاقوں میں دن رات بڑا آپریشن کرتے ہوئے فٹ پاتھوں، گرین بیلٹس، مخدوش عمارتوں سمیت تمام پبلک مقامات سے لگے ہزاروں بل بورڈز کی اسکرینیں اتار دی تھیں، جبکہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے عدم تعاون اور مشینری فراہم نہ کرنے کے باعث ان بل بورڈز کے کھمبے نہیں کاٹے جاسکے۔ اینٹی انکروچمنٹ سیل نے انچارج توحید احمد کی سرکردگی میں لطیف آباد کے گرین بیلٹس پر لگے سیکڑوں بل بورڈز کیخلاف ایک روزہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لے لیا تھا، جنہیں چند گھنٹوں پر سیاسی دباؤ اور اعلیٰ افسران کے حکم پر بل بورڈز مافیا کو واپس کردیا گیا تھا، جس کے بعد اینٹی انکروچمنٹ سیل نے آپریشن سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔ ٹاؤن کمیٹی قاسم آباد کے تمام علاقے بل بورڈز کے جنگل بنے ہوئے ہیں، جہاں ہزاروں بل بورڈز لگانے والی مافیا کو ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، ٹاؤن کمیٹی کے افسران اور سیاسی افراد کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور اب بھی مزید بل بورڈز پبلک مقامات پر نصب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سٹی کے مرکز گاڑی کھاتہ میں حال ہی میں تعمیر کی جانے والی نجی ملکیت عمارت پر بڑا جہازی سائز کا بل بورڈز لگانے کے لیے آہنی کھمبے نصب کردیے گئے ہیں جبکہ سٹی اور لطیف آباد میں فلائی اوورز اور پبلک مقامات پر دوبارہ اتاری گئی اسکرینیں لگانے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ آٹون بھان روڈ سمیت درجنوں مقامات پر گرین بیلٹس پر لگے بل بورڈز پر کنڈوں کے ذریعے بجلی چلائی جارہی ہے، جس پر حیسکو حکام نے بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ عدالت عظمیٰ آف پاکستان نے پبلک مقامات پر بل بورڈز، سائن بورڈز کو غیرقانونی قرار دے کر فوری ختم کرنے کا حکم دیا تھا، مگر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی نااہلی اور میئرمیونسپل کارپوریشن سید طیب حسین کے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے کے عمل کے باعث سٹی، لطیف آباد کے علاقے بل بورڈز کے جنگل بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور کمشنر حیدر آباد سے اپیل کی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر اس کی روح کے مطابق عملدر آمد کرتے ہوئے تمام پبلک مقامات سے بل بورڈز ختم کیے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.