حیدر آباد میر پور خاص، سماجی بہبود کو محکمہ صحت میں ضم کرنے کیخلاف علامتی بھوک ہڑتال

32

 

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) محکمہ پاپولیشن ویلفیئر حیدر آباد کے ملازمین کی جانب سے محکمہ پاپولیشن کو محکمہ صحت میں ضم کرنے اور تنخواہیں نہ ملنے کیخلاف حیدر آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد میں ملازمین علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھے۔ اس موقع پر آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن پاپولیشن یونٹ حیدرآباد کے صدر فرمان بگھیو، ثمینہ لاشاری، نور احمد سولنگی اور شبانہ بلوچ سمیت دیگر نے خطاب کے دوران بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے محکمہ پاپولیشن ویلفےئر کو ختم کرکے محکمہ صحت میں ضم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس عمل سے محکمہ پاپولیشن کے ملازمین کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ محکمہ پاپولیشن میں 2009ء سے کام کرنے والے کچے ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے انہیں دلاسہ دیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے کچے ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میل موبلائزر 20 سال سے عارضی بنیادوں پر کام کررہے ہیں اور انہیں مستقل نہ کرکے ان کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے، جبکہ محکمہ پاپولیشن کے ملازمین ٹائم اسکیل اور ٹی اے ڈی اے سمیت دیگر سہولیات سے بھی محروم ہیں اور سن کوٹہ سمیت فوتی کوٹے پر بھی عملدر آمد نہ ہونے کے سبب ملازمین کی اولاد بے روزگار ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ محکمہ پاپولیشن کو محکمہ صحت میں ضم کرنے کا فیصلہ واپس لیکر کچے ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ میرپورخاص مطالبات کی منظوری اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل در آمد نہ ہونے کیخلاف محکمہ پاپولیشن کی خواتین اور مرد ملازمین اور ایپکا کے رہنماؤں کا میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور نعرے بازی کی گئی۔ اس موقع پر ایپکا کے رہنما پیرل دایو، طاہر شیخ، لقمان سلمہ سلطانہ اور دیگر نے کہا کہ ملک میں آبادی کے بڑھنے سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور محکمہ پاپولیشن کے ملازمین اپنا کام کررہے ہیں لیکن ادارے میں سیاسی مداخلت کے باعث عالمی اداروں اور وفاق کی جانب سے ملنے والے فنڈز وزیر اور این جی اوز والے ہڑپ کررہے ہیں جس کی وجہ سے بہتری نہیں آرہی ہے۔ سندھ حکومت ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے، ہم نے حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ دیا تھا، جس میں محکمہ پاپو لیشن کے ملازمین کی محکمہ صحت میں ڈیوٹیوں کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ 2009ء سے 2012ء کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے، ملازمین کو ٹائم اسکیل دیا جائے، سمیت دیگر مطالبات کو منظور کیا جائے۔ بصورت دیگر 17 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.