حیدرآباد، پبلک اسکول کے اساتذہ اور عملے کا احتجاج

58

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) حیدرآباد پبلک اسکول کے مرد و خواتین اساتذہ اور ملازمین نے ڈپٹی کمشنر حیدر آباد کی جانب سے تنخواہیں بند کرنے اور نوکریوں سے برطرف کرنے کی دھمکیاں دینے کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، بعد میں علامتی بھوک ہڑتال کی، مظاہرین ڈی سی، اے سی اور اسکول انتظامیہ کیخلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر سینئر اساتذہ پروفیسر عبدالرحمن سیال، پروفیسر اشوک کمار، مس صائمہ اخوند، مسز احمد شاہ اور مس صائمہ سمیت دیگر نے کہا کہ ایک جانب پبلک اسکول انتظامیہ گزشتہ دس سال سے اسکول کے اساتذہ وعملے کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کررہی ہے تو دوسری جانب پرنسپل فضل الدین میمن، بورڈ آف گورننس کے ممبر ڈپٹی کمشنر حیدر آباد اسلم سومرو اسکول ٹائم کے دوران اسکول میں آکر اسسٹنٹ کمشنر امبر شیخ کے ہمراہ خواتین اساتذہ کو تنخواہیں اور اپنے حقوق مانگنے پر تنخواہیں بند کرنے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دے کر ہراساں کررہے ہیں جبکہ پاکستان کے قانون کے مطابق ہر سال تنخواہوں میں اضافہ، وقت پر تنخواہیں ملنے اور سینیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں ہمارا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک استاد اپنے حقوق کے لیے پریشان ہوگا، تو وہ کس طرح ملک کے مستقبل کے معمار بچوں کو بہتر تعلیم دے سکے گا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ خواتین اساتذہ سمیت ملازمین کو اپنا حق مانگنے پر نوکریوں سے نکالنے اور تنخواہیں بند کرنے کی دھمکیاں دے کر ہراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری کرائی جائے اور اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.