زر مبادلہ کے مسائل پرعبد الرحیم جانو کی تجاویز

116

میں نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں زر مبادلہ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اور موجودہ حالات کے تناظر میں تجارتی خسارہ اور در آمدی بل میں کمی کے لیے تجاویز دی گئی ہیں ۔ ان میں چند اہم تجاویز در ج ذیل ہیں :۔
۱۔ در آمدات اور بر آمدات کو آپس میں مربوط کردیا جائے ۔
۲۔ بر آمدات کے ذریعے آنے والے ترسیلات زر کو در آمد کنندگان کے لیے بینک ریٹ سے نسبتاََ زیادہ قیمت پر دیا جائے ، اس سے نہ صرف بر آمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ در آمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔
۳۔ در آمدات کو محدود کر کے زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا جاسکتا ہے ۔
۴۔ سمند ر پار پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کر کے زر مبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتاہے اور تجارتی خسارے کو کم کیا جاسکتا ہے ۔
۵۔ سمند ر پار پاکستانیوں کے ترسیلات زر کی مدد سے در آمدات میں کمی کی جاسکتی ہے ۔
۶۔ بینک کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے والے کو اس رقم کے مساوی قیمت کا ایک واؤچر دیا جاسکتا ہے جو کہ اسٹاک ایکسچینج میں موجودہ انٹر بینک ریٹ سے زیادہ قیمت پر بیچا جاسکے ۔ در آمد کرنے کا خواہشمند ان واؤچر کو بینک کے ذریعے کلیئر کراسکے ۔
۷۔ انٹر بینک ریٹ اور واؤچر ریٹ میں کم از کم تین روپے فی ڈالر کا فرق ہو، تاکہ بینک کے ذریعے ترسیلات زر وصول کرنے والے کو ترغیب دی جاسکے اور ہنڈی /حوالہ سسٹم کی حوصلہ شکنی کی جاسکے ۔ اس نظام سے گورنمنٹ کو امپورٹ بل کی ادائیگی کے لیے زر مبادلہ کے انتظام کے سر درد کا خاتمہ ہوسکے گااور حوالہ/ہنڈی کے ذرائع سے رقوم کی منتقلی کم سے کم کی جاسکے گی۔
۸۔ L/Cکا کم از کم مارجن ضروریات کے لیے 30فیصد اور لگژری اشیاء کے لیے سو فیصد ہونا چاہیے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ