بدلو تھر کے دن رات

239

 

غزالہ عزیز

کراچی سے سوا چھ سو کلو میٹر دور بائیس ہزر کلو میٹر رقبے پر پھیلا صحرائے تھر دنیا کا تیسرا بڑا صحرا ہے۔ یہاں پائے جانے والے قدرت کے رنگا رنگ مظاہر انسان کو حیران ہی نہیں ششدر کردیتے ہیں۔ پاکستان کا یہ عظیم صحرا اپنے وجود میں قدرت کی وہ خوبصورتی سمیٹے ہوئے ہے جو کہیں اور نظر نہیں آئے گی، کارونجھر پہاڑ کا طویل سلسلہ اسی صحرا میں موجود ہے۔ جس میں قیمتی پتھر گرینائٹ کا خزانہ چھپا ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال نایاب جانور اور نادر پرندے ہی نہیں رینگنے والے جانوروں کی نایاب اقسام موجود ہیں۔ تھر کا پیاسا صحرا آسمان کے بادلوں کو اُمید بھری نظروں سے دیکھتا ہے، بادلوں کے برسنے کی دُعا مانگتا ہے، بادل چھا رہے ہیں لیکن دھرتی پانی کو ترس رہی ہے۔۔۔ کہ بادل بن برسے رخصت ہوجاتے ہیں۔ بادل چھاتے ہی صحرا کی ریت پر موروں کا خوبصورت رقص شروع ہوجاتا ہے، اب خشک سالی کے باعث یہ خوبصورت پرندہ زندگی سے ہاتھ دھو رہا ہے، بڑی تعداد میں تھر میں موروں کی موت ہورہی ہے۔ اگست کے آخری دنوں میں پیاس نے کئی سو موروں کو موت کے گھاٹ اُٹار دیا، یہاں پاکستان کا دوسرا بڑا نیشنل پارک ’’کھیرتھر‘‘ ہے۔ جس کو حکومت نے قحط زدہ قرار دے دیا ہے۔ یہاں سندھ کے نایاب ہرن، چنکارا، اڑپال، جنگلی بکرے (آئی بیکس) موجود ہیں۔ پانی کی نایابی ان کی زندگیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
قحط سالی کے باعث تھر کے باسیوں اور مقامی انتظامیہ نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کو قحط زدہ قرار دیا جائے کیوں کہ اس کے کنویں خشک ہوچکے ہیں اور مکین بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔ بارش نہ ہونے کے باعث انسانوں کے لیے فصلیں اور جانوروں کے لیے چارہ (گھاس) نہیں اُگ سکا ہے، مویشیوں کا چارہ ختم ہونے کے باعث لوگ مجبوراً نقل مکانی کررہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کا عفریت تھر کے بچوں کی زندگیوں کو نگل رہا ہے، پچھلے دو ماہ کے دوران 102 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں، ڈیپلو کے دیہات میں 200 سے زیادہ مور مر گئے ہیں۔ 2017ء میں تھر کے 582 معصوم بچے جان سے گئے تھے۔ سندھ حکومت کی طرف سے اس بارے میں غیر سنجیدہ بیان آیا تھا، سیکڑوں بچوں کی اموات کو روکنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت دونوں بُری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ اسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان ہے، ہزاروں حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں، تھر میں صحت کے شعبے کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہولناک تصویر اُبھر کر سامنے آتی ہے، 10 لاکھ سے زائد آبادی والے تھرپارکر میں خواتین کے لیے صحت کے مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خواتین معالج کی تعداد 4 سال پہلے صرف 3 تھی۔ غربت، قحط اور خشک سالی کے باعث بھوک اور بیماری عام ہے، خواتین کی صحت دگرگوں ہے۔ بلاشبہ بچوں کی صحت کا دارومدار ماں کی صحت اور متوازن غذا پر ہوتا ہے جو تھری عورتوں کے لیے خواب کی طرح ہے۔ خشک سالی نے خوراک کی ایسی قلت کردی ہے کہ اکثر علاقوں میں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا ایک ناممکن سی بات ہوچکی ہے، تھری باشندوں کی اکثریت دن میں صرف ایک اور زیادہ سے زیادہ دو وقت کھانے پر اکتفا کرتی ہے۔ دن چڑھے اگر میسر آیا تو کچھ کھالیا اور شام ڈھلے جو مل گیا حلق سے اُتار لیا۔ عام دنوں میں پیٹ بھر کھانا مشکل ہوتا ہے پھر قحط کے دنوں میں تو نوبت فاقوں تک آجاتی ہے۔ مسلسل کم خوراک جسم کو کمزور سے کمزور کرتا چلا جاتا ہے، قوت مدافعت معدوم ہوجاتی ہے لہٰذا خوفناک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
تھر کے باشندے مسلسل کئی برس سے قحط کی اس صورتِ حال کو بھگت رہے ہیں۔ بارش کا موسم آتا ہے اور بغیر برسے گزر جاتا ہے، اس دوران سیکڑوں بچے ہلاک ہوچکے ہیں، اُن کی زندگیوں کا سہارا مویشی بھی ہزاروں کی تعداد میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ قحط سالی، خشک سالی برسوں سے زندگیوں کو نگل رہی ہے، خوراک اور پانی کی شدید قلت کوئی آج سے نہیں ہے لیکن اس کے لیے نہ کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی اور نہ اس سلسلے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ سندھ کی منتخب حکومت کو اس سلسلے میں اگر کوئی تشویش ہے تو وہ زبانی کلامی سے زیادہ نہیں۔ وزیراعلیٰ سیکڑوں بچوں کی موت کا سبب قحط سالی نہیں بلکہ بیماری قرار دیتے ہیں۔ بہرحال قحط ہو یا بیماری بچوں کی اموات کی روک تھام کے لیے کوئی تو سنجیدگی سے سوچے اور عملی اقدام اُٹھائے۔ تھر کی لاکھوں خواتین دور دراز سے پانی کے وزنی مٹکے اُٹھا اُٹھا کر عمر گزار دیتی ہیں۔ جنگل سے لکڑیاں لا کر چولہے جلاتی ہیں، بچیوں کے لیے تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے، صحت کی سہولتیں عنقا ہیں، ایسا نہیں کہ تھر کے لوگ محنت کش نہیں وہ سلیقہ شعار بھی ہیں اور ہنر مند بھی۔ ہاتھ کے ہنر میں ان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا، اگر زمانے کے مطابق ہنر مندی کی تربیت دی جائے، اسکولوں کو فعال کیا جائے تو وہاں غریب گھرانوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ پھر تھرکول جو علاقے کی تقدیر بدل سکتا ہے، لیکن ملکی بیوروکریسی ذاتی مفادات کے لیے ہر قدم پر رکاوٹ کھڑی کرتی رہی ہے، آسٹریلیا اور انڈونیشیا میں 1200 فٹ گہرائی سے کوئلہ نکالا جارہا ہے، تھر میں تو یہ 200 سے 400 فٹ کی گہرائی پر دستیاب ہے لیکن اس دریافت کے برسوں بعد بھی حکمرانوں کی غفلت کے باعث اس کالے سونے کو کام میں نہیں لایا جاسکا۔ تھر کی دھوپ اور تیز ہوائیں بھی قدرت کا عطیہ ہیں، تھرپارکر کے طول و عرض میں شمسی توانائی کے منصوبے، پن چکیاں اور پانی کو میٹھا بنانے والے چھوٹے چھوٹے منصوبے قائم کرکے قدرت کے ان عطیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ لیکن بات وہی ہے، اخلاص نیت اور ایمان داری کے ساتھ کام کون کرے گا؟؟ ترقیاتی بجٹ یہاں کے لوگوں کا حق ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ووٹ کے ذریعے حکومت میں پہنچائے جانے والے اُن کے نمائندے صرف اپنے حق کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں اور تھر کے پیارے لوگ میٹھی بوندوں کی آس میں جی کر کھارے پانی کے دُکھ اٹھاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ