لاپتا صحافی کی تلاش کیلیے سعودی عرب پر عالمی دباؤ 

72
واشنگٹن: لاپتا سعودی صحافی جمال خاشق جی کی پراسرار گمشدگی کے بعد امریکی دارالحکومت میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے
واشنگٹن: لاپتا سعودی صحافی جمال خاشق جی کی پراسرار گمشدگی کے بعد امریکی دارالحکومت میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینیٹ نے لاپتا سعودی صحافی کی تلاش کے لیے سعودی حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی کانگریس کے اس اقدام سے سعودی عرب پر دباؤ بڑھا ہے کہ وہ جمال خاشق جی کی گمشدگی کے بارے میں صورتحال واضح کرے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 22 امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ کو ایک خط لکھا ہے کہ جمال خاشق جی کی پراسرار گمشدگی کی تفتیش کی جائے جس پر صدر ٹرمپ نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکی سینیٹرز کی جانب سے خط تحریر کیے جانے کے بعد اب حکومت جمال خاشق جی کی گمشدگی کے حوالے سے باضابطہ تحقیقات کرے گی اور اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اس معاملے میں سعودی حکومت ملوث ہے تو صدر ٹرمپ کو سعودی عرب پر (گلوبل میگنِٹسکی ہیومن رائٹس ایکٹ کے تحت) پابندیاں لگانی ہوں گی۔ واضح رہے کہ جمال خاشق جی ایک سعودی شہری ہیں اور وہ امریکا میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہیں 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا جس کے بعد سے ان کا کچھ اتا پتا نہیں۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ انہیں قونصلیٹ ہی میں قتل کر دیا گیا تاہم سعودی حکام کا اصرار ہے کہ وہ واپس چلے گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ خاشق جی کے معاملے کی تہہ تک پہنچ کر رہیں گے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمال خاشق جی کے بارے میں سعودی حکام سے اعلیٰ ترین سطح پر بات بھی کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا کہ ہم کسی کو بھی رپورٹروں کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم ہر چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور دوسرے سینئر حکام نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے منگل کے روز بات کر کے ان سے اس صورتِ حال کے بارے میں مزید معلومات طلب کی ہیں۔ ترک میڈیا نے سعودی صحافی جمال خاشق جی کے لاپتا ہونے کے حوالے سے بدھ کے روز ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی تھی جس میں میں مبینہسعودی انٹیلی جنس افسران کو استنبول ہوائی اڈے کے ذریعے ترکی میں داخل ہوتے اور روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اُدھر برطانیہ کے وزیر خارجہ نے بھی سعودی عرب سے کہا ہے کہ برطانیہ جمال خاشق جی کے حوالے سے جوابات کا منتظر ہے۔ سعودی وزیرِ خارجہ عادل جبیر سے بات کرتے ہوئے جیرمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ دوستیاں مشترکہ اقدار پر منحصر ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک فوری، آزاد اور بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ اُدھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جمال خاشق جی سے متعلق ایک مضمون کے مندرجات کی تصدیق نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے اور غیر مصدقہ مواد کو حذف کردیا ہے۔ اخبار نے تر ک حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کے 15 خفیہ اہلکار سیاحوں کے روپ میں جمال خاشق جی کو قتل کرنے کے لیے استنبول آئے تھے اور وہ واردات کے بعد ترکی سے چلے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ