شمالی وجنوبی کوریا کے بہتر تعلقات میں امریکا رکاوٹ بن گیا 

90

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت رد عمل کے بعد شمالی کوریا کے خلاف یکطرفہ طور پر کچھ پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزیر خارجہ کانگ کیونگ وا نے منگل کے روز کہا تھا کہ سیؤل حکومت شمالی کوریا کے خلاف وہ پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہی ہے جو 2010ء کے حملے کے بعد عائد کی گئی تھیں جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیؤل واشنگٹن کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ بعد ازاں جمعرات کے روز جنوبی کوریا کے وزیر اتحاد چو میونگ گیون کی طرف سے وضاحت دیتے ہوئے بات پلٹ دی گئی اور امریکی دباؤ سے متاثر ہونے کے بعد کہا گیا کہ پیانگ یانگ حکومت کے خلاف پابندیاں ہٹانے کا معاملے سنجیدگی سے زیر غور نہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی کوریا کا ایک بحری جنگی جہاز2010ء میں مبینہ طور پر تارپیڈو حملے کا نشانہ بننے کے بعد ڈوب گیا تھا جس کا الزام سؤل حکومت نے شمالی کوریا پر عائد کیا تھا۔حادثے میں جہاز پر سوار جنوبی کورین نیوی کے 46 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ شمالی کوریا کی حکومت ا لزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔واقعے کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے شمالی کوریا کے ہر قسم کے جہازوں کے جنوبی کورین بندرگاہوں میں داخلے پر پابندی لگادی تھی اور شمالی کوریا کے ساتھ سیاحت، تجارت اور امداد معطل کرتے ہوئے بیشتر وفود کا تبادلہ بھی روک دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ