چین نے مسلمانوں کے حراستی مراکز کو قانونی شکل دیدی 

54

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی صوبے سنکیانگ کی علاقائی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کے لیے بنائے گئے حراستی کیمپوں کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً 10 لاکھ اقلیتی مسلمان ایسے حراستی کیمپوں میں بند ہیں، جنہیں ’تربیتی مراکز‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے قانون ترامیم کے تحت ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اب ان مسلمانوں کو ایسے ’تعلیمی اور تربیتی مراکز‘ میں رکھنا ممکن ہو گیا ہے۔ کئی مختلف غیر سرکاری تنظیموں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یہ نام نہاد ’ٹریننگ سینٹرز‘ عملاً ایسے حراستی مراکز ہیں، جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 10 لاکھ اقلیتی مسلم باشندوں کو منتقل کیا جا چکا ہے۔ قانون سازی جس سرکاری مسودے کی بنیاد پر کی گئی ہے، اس کے مطابق چین کے مختلف صوبوں کی علاقائی حکومتیں ’ایسے پیشہ ورانہ تعلیمی تربیتی مراکز قائم کر سکتی ہیں، جہاں ایسے افراد کی تعلیم کے ذریعے اصلاح کی جا سکے، جو شدت پسندی اور مذہبی انتہاپسندی سے متاثر ہو چکے ہوں۔‘لیکن حقیقت میں ایسے مراکز میں زیر حراست افراد کو بظاہر صرف مینڈیرین (چین میں بولی جانے والی اکثریتی زبان) اور پیشہ ورانہ ہنر ہی نہیں سکھائے جاتے، بلکہ نئی قانونی ترامیم کے ذریعے یہ بھی ممکن ہو گیا ہے کہ ایسے افراد کو ’نظریاتی تعلیم، نفسیاتی بحالی اور رویوں میں اصلاح‘ جیسی سہولیات بھی مہیا کی جائیں۔ بیجنگ حکومت اس بات سے انکار کرتی ہے کہ یہ مراکز چینی مسلم اقلیت کے لیے قائم کردہ کوئی حراستی مراکز ہیں۔ تاہم ساتھ ہی حکام نے مختلف مواقع پر یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بہت چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث افراد کو بھی ایسے مراکز میں بھیجا گیا ہے۔ ان کیمپوں میں کچھ عرصہ پہلے تک زیر حراست رکھے جانے والے کئی افراد نے تصدیق کی ہے کہ انہیں دوران حراست اس امر پر مجبور کیا گیا کہ وہ بطور ایک عقیدے کے اسلام کی مذمت کریں اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ اپنی غیر مشروط وفاداری کا اظہار کریں۔آسٹریلیا میں میلبورن کی لا ٹروب یونیورسٹی کے چینی حکومت کے ملکی نسلی اقلیتوں سے متعلق پالیسی امور کے ماہرجیمز لائبولڈ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ سنکیانگ میں ایسے حراستی مراکز کے قیام کے کافی عرصے بعد اب جا کی جانے والی قانونی ترامیم کا مقصد یہ ہے کہ اس چینی صوبے میں ایغور، قزاق اور دیگر مسلم اقلیتی گروپوں کے افراد کے لاکھوں کی تعداد میں زیر حراست رکھے جانے کو جائز قرار دیا جا سکے۔
چین ؍ حراستی مراکز

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.