انتظامی نااہلی ڈاؤ یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

90

کراچی (رپورٹ: قاضی عمران احمد) ڈاؤ یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سابق وائس چانسلر کی نا اہلی اور موجودہ وائس چانسلر کی غفلت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی عدم دل چسپی نے سیکڑوں طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگا دیا، پی ایم ڈی سی کے مرکزی صدر کو لکھی جانے والی درخواست بھی بے اثر رہی، ڈاؤ ڈینٹل کالج کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے 8 سال بعد بھی رجسٹریشن نہیں کرائی جا سکی، رجسٹریشن نہ ہونے کے باوجود2018-19ء کے لیے داخلوں کا اعلان کر دیا گیا، لاکھوں روپے سالانہ فیس جمع کرانے کے باوجود 2017ء اور 2018ء میں ہاؤس جاب مکمل کرنے والے ڈاکٹرز کی اسناد ’’ردی پیپر‘‘ بن گئیں، لائسنس نہ ملنے کے باعث پریکٹس یا ملازمت بھی نہیں کر سکتے، ڈاؤ ڈینٹل کالج سے پاس آؤٹ ڈاکٹروں کے والدین نے آج (جمعہ کو) ڈاؤ یونیورسٹی کی ایگزی بیشن میں مظاہرہ کرنے کا اعلان کردیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاؤ ڈینٹل کالج کے قیام کے وقت سابق وائس چانسلر مسعود حمید خان پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر تھے اور وہ کونسل کا صدر ہونے کے زعم میں ڈاؤ ڈینٹل کالج کی رجسٹریشن کے معاملے کو ٹالتے رہے کہ جب دل چاہے گا رجسٹریشن کر لیں گے۔ ذرائع کے مطابق پی ایم ڈی سی سے منظوری کے باوجود کالج یا یونی ورسٹی کی رجسٹریشن کا نوٹی فکیشن حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے مگر سابق وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان اپنے 9 سال سے زائد کے دور میں بھی ڈاؤ ڈینٹل کالج کی رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی نے بھی ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی سرکاری شعبے میں چلنے والے اس غیر رجسٹرڈ کالج کے حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت کی۔ ذرائع کے مطابق 2012ء سے 2017ء تک طلبہ و طالبات سے ساڑھے 6 لاکھ روپے زائد سالانہ فیس وصول کی جاتی رہی ہے جب کہ اب اس کالج میں سوا 7 لاکھ روپے سالانہ فیس وصول کی جا رہی ہے، فی طالب علم لاکھوں روپے سالانہ فیس وصولی کے باوجود کالج کی 8 سال بعد بھی رجسٹریشن کا نہ ہونا بدعنوانی کی بد ترین شکل، دھوکا دہی اور طلبہ و طالبات کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ’’ڈاؤ ڈینٹل کالج گریجویٹ اینڈ اسٹوڈنٹس پیرنٹس ایکشن کمیٹی‘‘ کے کنوینر قمر الحسن سے ’’جسارت‘‘ نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل گریجویشن کے بعد ہاؤس جاب مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات کو تا حال لائسنس جاری نہیں کیا گیا ہے جب کہ دوسرا بیج بھی اس سال اپنی ہاؤس جاب مکمل کر چکا ہے لیکن پی ایم ڈی سی اس سنگین مسئلے پر کوئی توجہ دینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ قمر الحسن کا کہنا تھا کہ ہم ایک سال سے ڈاؤ ڈینٹل کالج کی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کا رویہ انتہائی خراب ہے، ہم نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے پیٹ کاٹ کر لاکھوں روپے سالانہ فیس جمع کرائی، چار سال میں ہر طالب علم نے قریباً تیس لاکھ روپے جمع کرائے لیکن کالج انتظامیہ اور پی ایم ڈی سی کی غفلت نے ہمارے بچوں کی محنت کو مٹی میں ملا دیا ہے اور ان کی اسناد کی حیثیت ردی کے کاغذ جیسی کر دی ہے اور وہ نہ تو کہیں ملازمت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی پریکٹس کر سکتے ہیں۔ قمر الحسن نے بتایا کہ پیرنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے پی ایم ڈی سی کے مرکزی صدر جسٹس (ر) شاکر اللہ جان کو ماہ ستمبر میں ایک درخواست دی گئی تھی لیکن ایک ماہ گزر جانے کے باوجود پی ایم ڈی سی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا، اسی طرح ڈاؤ ڈینٹل کالج کے پرنسپل سے کئی مرتبہ ملاقاتیں بھی کی جا چکی ہیں اور تحریری درخواستیں بھی دی جا چکی ہیں مگر ان کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ قمر الحسن نے کہا کہ آج (جمعہ کو) گورنر سندھ کی ایکسپو سینٹر آمد کے موقع پر متاثرہ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کی جانب سے بھرپور مظاہرہ کیا جائے گا اور اس موقع پر ہم گورنر سندھ سے سوال کریں گے کہ ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ