لیاری کے 17 بڑے اسکول این جی اوز کے حوالے کرنے کا منصوبہ

56

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) لیاری کے 17بڑے سرکاری اسکولوں کا معیار جان بوجھ کر تباہ کرکے این جی اوز کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی جبکہ لیاری کے سرکاری اسکولوں کو این جی اوز کے چنگل سے بچانے کے لیے لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی میدان میں آ گئی ہے اورمحکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے اسکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیے جانے جیسے اقدامات نہ رکنے پرسخت احتجاج کی دھمکی بھی دی ہے ۔ لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈی او ایجوکیشن نیلوفر لیاری کے تین بڑے کیمپس متاثر کرکے این جی او کے تحت چلنے والے ڈی سی ٹی اواسکول کو بہترین اساتذہ فراہم کررہی ہے جو لیاری کیساتھ زیادتی ہے۔بات صرف یہاں نہیں رکی بلکہ لیاری کے 17 بڑے اسکول ایسے ہیں جن کا معیار تعلیم بہتر کرنے کے بجائے مزید تباہ کرکے کرن فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ان اسکولوں میں گورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول غریب آباد،جینو بائی جی الانہ،میر ایوب ،مظہر العلوم گورنمنٹ اسکول ،ایس ایم لیاری،گورنمنٹ اسکول بہارکالونی ،ولی محمد حاجی یعقوب،لیاری نمبر دو،گل محمد لین،کلاکوٹ گرلز اسکول،سنگولین گرلز اسکول سمیت دیگر شامل ہیں ۔محکمہ اسکول ایجوکیشن اور ضلعی تعلیمی افسر کے اس اقدام کے خلاف لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں مختلف اسکولوں کی اسکولوں کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین اور ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مظہر العلو م گورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول کیمپس ،گورنمنٹ گرلز سکینڈری اسکول بہارکالونی کیمپس کو کرن فاؤنڈیشن گود دینے کے فیصلے کو مستردکر دیا گیا۔یہ تینوں لیاری کے وہ اسکول ہیں جہاں ساڑھے تین ہزار سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔ لیاری پیرنٹس اینڈ سوشل ورکرز ایکشن کمیٹی اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ سیکرٹری تعلیم اور ڈی او ایجوکیشن نیلوفر کے خلاف لیاری دشمنی پر کارروائی کی جائے اور لیاری کے اسکولوں کو بہتر بنایا جائے اور این جی اوز کے حوالے کرنے سے باز رہا جائے ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو سرکاری اسکولوں کو تباہ کرکے این جی اوز کو حوالے کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔ٹرانسفر کئے گیے اساتذہ کا ٹرانسفر آرڈر واپس نہ لیا گیا تو ایکشن کمیٹی مزید سخت لائحہ عمل کااعلان کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ