جامعہ کراچی اور آئی بی اے میں زمین کا تنازع طلبا سخت پریشان

52

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی اور آئی بی اے انتظامیہ کے درمیان حدود کے تنازع نے طلبہ کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ اس تنازع کی وجہ سے سیکڑوں طلبہ کی حاضری قبول نہیں کی جاتی۔ ان کی کلاسیں بھی رہ جاتی ہیں۔ بعض اساتذہ کلاس شروع ہونے کے بعد طلبہ کو داخل نہیں ہونے دیتے۔ سب سے زیادہ طالبات متاثر ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے مسکن چورنگی کی جانب گیٹ پر صبح کو ٹریفک بے تحاشا جام نظر آتا ہے۔ گاڑیوں کی طویل قطاریں اور یونیورسٹی میں طلبہ کا داخلہ ایک مصیبت بن چکا ہے۔ یونیورسٹی میں داخل ہونے کیلیے آدھے سے پون گھنٹہ لگنا ایک معمول کی بات ہے۔ ایسے میں بیشتر طلبہ اپنی صبح کی کلاسوں سے محروم رہتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی اور آئی بی اے میں زمین کے معاملے پر کچھ تنازع ہے اور آئی بی اے کے خودمختار ادارہ بننے کے بعد اس میں شدت آگئی ہے، لیکن اس تنازع کا شکار بے قصور طلبہ اور طالبات ہو رہے ہیں۔ آئی بی اے پر دباؤ ڈالنے کیلیے ہر کچھ روز بعد گیٹ پر کھڑے یونیورسٹی کے گارڈز اور رینجرز کے جوان چُن چُن کر آئی بی اے کے طلبہ اور طالبات کو گاڑیوں سے اتار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ اور طالبات وہاں سے کئی کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسے میں طالبات کی حالت خاص طور پر قابل رحم ہوتی ہے، جو اگر پیدل چل کر جائیں تو کلاس نہیں ملتی اور اتنا پیدل چلنا محال ورنہ کسی سے گاڑی میں لفٹ لیں یا پھر اندر چلنے والے رکشہ ٹیکسیوں میں سفر کریں۔ واضح رہے کہ آئی بی اے نے اپنے طلبہ اور اسٹاف کو پاس اور اسٹیکر جاری کیے ہوئے ہیں، لیکن چونکہ اندر جانے کیلیے گیٹ جامعہ کراچی کا استعمال کرنا پڑتا ہے، لہٰذا جب جامعہ کی انتظامیہ چاہتی ہے، اندر گاڑی اور موٹر سائیکل لے جانے پر پابندی لگا دیتی ہے۔ ایسے میں خاص طور پر طالبات کے والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اندر رکشہ ٹیکسی اور دوسری کرایے کی گاڑیاں لے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سیاہ شیشوں والی گاڑیاں بھی گھومتی ہیں۔ گزشتہ دنوں جب کچھ طلبہ نے اس پر احتجاج کی کوشش کی تو گیٹ پر موجود رینجرز کے جوانوں اور جامعہ کے اسٹاف نے ایک طالب علم کو شدید زدوکوب کیا۔ طلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ آئی بی اے ایک خودمختار ادارہ ہے، وہ اپنے بچوں کی بھاری فیس ادا کر کے تعلیم دلا رہے ہیں۔ ایسے میں جامعہ کراچی کی جانب سے یہ کارروائی سراسر زیادتی اور اپنی حد سے تجاوز ہے۔ اگر جامعہ کراچی اور آئی بی اے کا کوئی تنازع ہے تو وہ اس کو قانونی طور پر حل کریں۔ آئی بی اے کے طلبہ و طالبات کے خلاف انتقامی اور توہین آمیز سلوک کسی طور پر جامعہ کراچی جیسے ادارے کو زیب نہیں دیتا۔ ایسے میں آئی بی اے کی انتظامیہ کو بھی اپنی ذمے داری ادا کرتے ہوئے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہییں۔ گورنر اور وزیراعلیٰ سے رجوع کرنا چاہیے، ورنہ ہم خود حکومت سے رجوع کریں گے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ اس صورتحال پر وائس چانسلرجامعہ کراچی اور ڈائریکٹر آئی بی اے خاموش ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ